حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 292
بَرْدٌ کے کہ اس میں معمولی ٹھنڈک ہوتی ہے۔۱۶۔۔کسی صوفی نے ایک مقام پر لکھا ہے اور جس نے یہ بات لکھی ہے وہ ایک برا آدمی ہے۔وہ کہتا ہے۔مَیں نے انبیاء کے مقام کو چاندی کا مقام دیکھا اور اولیاء کے مقام کو سونے کا مقام دیکھا ہمارے مولویوں نے اس وجہ سے اس کو بھی کافر کہا ہے۔سائنس والے جانتے ہیں کہ کل رنگوں کا جامع سفید رنگ ہے۔ان کا منشاء یہ ہے کہ جو سفید رنگ نظر آیا وہ سارے کمالات کا جامع ہے۔۱۸۔۔زنجبیل دو لفظوں سے مرکب ہے۔زَنَا اور جَبَل۔زَنَا لُغت میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل بمعنی پہاڑ۔سونٹھ کی گرمی انسان میں بڑی قوّت پیدا کرتی ہے۔جب تک کہ عاشقانہ گرمی سالکِ راہِ محبت کے دل می نہ ہو وہ مشکلات کی بلند گھاٗٹیوں کو طے نہیں کر سکتا۔جب یہ زنجبیل عشق اور محبت کی شراب پی لیتا ہے تو خدا کی راہ میں عملی قوّت کا ایسا حیرات ناک اثر دکھاتا ہے۔کہ دوسرا ہرگز دل سے ایسی جانفشانیاں نہیں دکھلا سکتا۔اﷲ تعالیٰ نے بھی ایسے سالک کی جزا کا سۂ وصال رکھا ہے۔جس کے مزاج کی طرف زنجبیل کے لفظ سے اشارہ کرتے ہوئے جَزَآئً وِّ فَاقًا کی موافقت کو بتلایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴ا ؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۱۹۔۔: سَلْسَبِیْل میں سل۔سبیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔یعنی پوچھ راستہ۔دنیا میں عشق اور محبت کا زنجبیلی کاسہ اپنے مرشد کے ہاتھ سے جب سالک پی لیتا ہے تو اس میں خصوصیت کے ساتھ اپنے محبوبِ حقیقی تک پہنچنے کی ایک تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔پھر وہ راہ طریقہ کے پوچھنے اور اس پر قدم مارنے میں عار نہیں کرتا۔خواہ کیسی دشوار گھاٹیاں راستے میں حائل ہوں۔ہمارے موجودہ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک فرمودہ جو سلسبیل کے لفظ سے بہت ہی مناسبت