حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 290
راحت میں عسر یُسر میں قدم آگے بڑھاؤں گا۔بغاوت اور شرارت کی راہوں سے بچنے کا اقرار کرتا ہے۔غرض ایک عظیم الشان معاہدہ ہوتا ہے۔پھر دیکھا جاوے کہ نفسانی اغراض اور دنیوی مقاصد کی طرف قدم برھاتا ہے یا دین کو مقدم کرتا ہے۔عامہ مخلوقات کے ساتھ نیکی اور مسلمانوں کے ساتھ خصوصًا نیکی کرتا ہے یا نہیں۔ہر امر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔مقدمہ ہو تو جھوٹے گواہوں۔جعلی دستاویزوں سے مہترِز رہے۔دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے وعظ کہنا بھی مفید امر ہے۔اس سے انسان اپنے آپ کو بھی درست بنا سکتا ہے جب دوسرے کو نصیحت کرتا ہے تو اپنے دل پر چوٹ لگتی ہے۔امر بالمعروف بھی ابرار کی ایک صفت ہے اور پھر قسم قسم کی بدیوں سے رُکتا ہے۔المختصر جب خود بھلائی حاصل کرتے ہیں۔ظالم لنفسہٖ ہوتے ہیں تو دوسروں تک بھی پہنجاتے ہیں جو معاہدہ جنابِ الہٰی سے کیا ہواس کو وفاداری سے پورا کرے اور نیکی یوں حاصل کرے کہ میرے ہی افعال نتائج پیدا کریں گے۔ایک فلسفی مسلمان کا قول ہے: گندم از گندم بروید جَو زجَو از مکافاتب عمل غافل مشو اور کھانا دینے میں دلیر ہوتے ہیں۔مسکینوں۔یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔قرآن کریم میں لباس اور مکان دینے کی تاکید نہیں آئی جس قدر کھانا کھلانے کی آئی ہے۔ان لوگوں کو خدا نے کافر کہا ہے جو بھوکے کو کہہ دیتے ہیں کہ میاں تم کو خُدا ہی دے دیتا اگر دنیا منظور ہوتا۔قرآن کریم کے دل سورۃ یٰسین میں ایسا لکھا ہے وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ یَشَآئَ اﷲُ اَطْعَمَہٗ…آجکل چونکہ ّحط ہو رہا ہے انسان اس نصیحت کو یاد رکھے اور دوسرے بھوکوں کی خبر لینے کو بقدر وسعت تیار رہے اور اﷲ تعالیٰ کی محبت کے لئے یتیموں۔مسکینوں اور پابند بلا کو کھانا دیتا رہے۔مگر صرف اﷲ کے لئے دے۔یہ تو جسمانی کھانا ہے۔روحانی کھانا ایمان کی باتیں۔رضاء الہٰی اور قرب کی باتیں یہاں تک کہ مکالمہ الہٰیہ تک پہنچا دینا اسی رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔یہ بھی طعام ہے۔وہ جسم کی غذا ہے یہ روح کی غذا منشاء یہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں کہ کہ ہم اپنے رب سیت ایک دن سے جو عبوس اور قمطریر ہے ڈرتے ہیں (عبوس) تنگی کو کہتے ہیں قمطر پر دراز یعنی قیامت کا دن تنگی کا ہو گا اور لمبا ہو گا۔بھوکوں کی مدد کرنے سے خدا تعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی