حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 289

اسی طرح پہلے تتلا کر بولتا پھر نہایت صفائی اور عمدگی سے بولتا ہے پکڑتا ہے وغیرہ وغیرہ گویا بتدریج نسوونما ہوتا ہے۔اگر چند طاقتوں سے کام لینے کو چھوڑ دے تو وہ طاقتیں مردہ یا پثرمُردہ ضرور ہو جاتی ہیں یہی معنی ہیں جب انسان بدی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو طاقت کمزور ہو جاتی ہے اور نیکی کے قوے بالکل ازکار رفتہ ہوتے ہیں یہ کوئی ظالم نہیں اگر کسی حاکم کو حکومت دیجاوے اور وہ فرائض منصبی کو ادا نہ کرے تو نگران گورنمنٹ اس کے وہ اختیارات سلب کر دے گی اور اسے معزول کرے گی اور اگر اس حالت کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی پروانہ کرے تو یہ امر عاقبت اندیشی اور عقل کے خلاف ہے کہ سُست انسان کے پاس رکھی رکھی جاوے ایسے ہی وہ انسان ہے جو ایمانی قوٰی کو خرج نہیں کرتا وہ ابرار کے زمرہ میں رہ نہیں سکتا۔جن کے عقائد حقہ ہیں یعنی وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں۔جزا و سزا اور خدا کی کتابوں اور انبیاء علیہم اسلام پر ایمان لاتے ہیں پھر ان وسائط کو مانتے ہیں جن کا مقصود اتم فرمانبرداری ہے۔پھر عمل کے متعلق کیا چاہیئے۔سب سے زیادہ عزیز مال ہے۔پانچ روپے کا سپاہی پانچ روپیہ کے بدلے میں عزیز جان دے دینے کو تیار ہے۔ماں باپ اس روپیہ کے بدلے اس عزیز چہرہ کو جُدا کر دیتے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ مال کی طرف انسان بالطبع جھکتا ہے۔لیکن جب خدا سے تعلق ہو تو پھر مال سے بے تعلقی دکھاوے اور واقعی ضرورتوں والے کی مدد کرے۔مسکینوں کو دے جوبے دست و پا ہیں، رشتے داروں کی خبر لے۔کوئی کسی ابتلا میں پھنس گیا ہو تو اس کے نکالنے کی کوششِ کرے مگر سب سے مقدم ذوی القربیٰ کو فرمایا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوی القربیٰ کے ساتھ سلوک کرنا زیادتی عمر کا موجب ہے۔یتیموں کی خبر لے۔پھر جو بے دست و پاہیں ان کی خبر لے۔پھر جو علمِ پڑھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے پڑھتے ہیں اور مصیبت میں مبتلا شدہ لوگوں کی خبرلے۔پس جناب الہٰی کے ساتھ تعلق ہو اور دنیا اور اس کی چیزوں سے بے تعلقی دکھلاوے پھر جناب الہٰی کی راہ میں جان کو خرچ کرے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جان خرچ کرنے کی پہلی راہ کیا ہے؟ نمازوں کا ادا کرنا۔نماز مومن کا معراج ہے۔نماز میں ہر قسم کی نیازمندیاں دکھائی گئی ہیں۔غرض کا فوری شراب پیتے پیتے انسان اس چشمہ پر پہنچ جاتا ہجے جہاں اسے شفقت علیٰ خلق اﷲ کی توفیق دی جاتی ہے۔پھر بتلایا کہ جو معاہدہ کسی سے کریں اس کی رعایت کرتے ہیں۔مسلمان سب سے بڑا معاہدہ خدا سے کرتا ہے کہ میں نیک نمونہ ہوں گا۔میں فرمانبردار ہوں گا۔میں اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے کسی کو دُکھ نہ دوں گا۔اور ایسا ہی ہماری جماعت امام کے ہاتھ پر معاہدہ کرتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔رنج میں