حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 288
دوسرا گروہ میانہ رَو آدمیوں کا ہے جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے بہ جبرو اکراہ لیتے ہیں اور بعض الہٰی کاموں کی بجا آوری میں نفس اُن کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور سوق اور محبّت اور ارادت سے ان کاموں کو بجا لاتا ہے غرض یہ لوگ کچھ تو تکلیف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلّف کے اپنے ربِّ جلیل کی فرمانبرداری ان سے صادر ہوتی ہے۔تیسرا سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ کے آمدمیوں کا گروہ ہے جو نفسِ امّارہ پر بکلّی فتحیاب ہو کر نیکیوں میں آگے نکل جانیوالے ہیں۔غرض سلوک کی راہ میں مومن کو تین درجے طے کرنے پڑتے ہیں۔پہلے درجہ میں جب بدی کی عادت ہو تو اس کے چھوڑنے میں جان پر ظلم کرے اور اس قوّت کو دباوے شراب کا عادی اگر شراب کو چھوڑے گا تو ابتدا میں اس کو بہت تکلیف محسوس ہو گی۔بعد اس کے میانہ روی کی حالت آوے گی کبھی کبھی بدی کے چھوڑنے میں گو کسی وقت کچھ خواہش بد پیدا بھی ہو جاوے۔ایک لذّت اور سرور بھی ہاصل ہو جایا کریگا مگر تیسرے درجہ میں پہنچ کر سابق بالخیرات ہونے کی طاقت آ جاوے گی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگے گی اور مکالمہ الہٰی کا شرف عطا ہو گا۔تو سب سے پہلے ابرار کو کافوری شربت دیا جاوے گا تاکہ بدیوں اور رذائل کی قوتوں پر فتح مند ہو جاویں اور اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ بدیوں کو دباتے دباتے نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور پھر وہ ایک خاص چشمہ پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ ایک چشمہ ہے کہ اﷲ کے بندے اُس سے پیتے ہیں صرف خود ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ دوسروں کو بھی مستفید کرتے ہیں اور ان چشموں کو چلا کر دکھاتے ہیں۔فطرۃ انسانی پر عور کرنے سے پتا لگتا ہے کہ تمام قوٰی پہلے کمزوری سے کام کرتے ہیں چلنے میں ، بولنے میں ، پکڑنے میں عرض ہر بات میں ابتدائً لڑکپن میں کمزوری ہوتی ہے۔لیکن جس قدر ان قوٰی سے کام لیتا ہے اُسی قدر طاقت آجاتی ہے پہلے دوسرے کے سہارے سے چلتا ہے پھر کود اپنے سہارے چلتا ہے۔