حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 287 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 287

دکھالائی ہے وہ تیرہ سو برس سے تجربہ میں آ چکی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے راحت کے جو سامان بتلائے ہیں ان کا امتحان کرنا آسان ہے۔غور کرو اور بلند نظری سے کام لو!! عرب کو کوئی فخر حاصل نہ تھا کس سے ہوا؟ اسی نسخہ سے کیا عرب میں تفرقہ نہ تھا پھر کس سے دور ہوا؟ ہاں اسی راہ سے !۱ کیا عرب نابودگی کی حالت میں نہ تھے پھر یہ حالت کس نے دور کی؟ ماننا پریگا کہ اسی نبوّتِ حقہ نے !!! عرب جاہل تھے۔وحشی تھے۔خدا سے دور تھے۔محکوم نہ تھے تو حاکم بھی نہ تھے؟ مگر جب انہوں نے قرآن کریم کا شفا بخش نسخہ استعمال کیا تو وہی جاہل دنیا کے استاد اور معلّم بنے وہی وحشی متمدّن دنیا کے پیش رَو اور تہذیب و شائستگی کے چشمے کہلائے۔وہ خدا سے دُور کہلانے والے خدا پرست اور خدا میں ہو کر دنیا پر ظاہر ہوئے۔وہ جو حکومت کے نام سے بھی ناواقف تھے دنیا بھر کے مظفرو منصور اور فاتح کہلائے۔غرض کچھ نہ تھے سب کچھ ہو گئے۔مگر سوال یہی ہے کیونکر؟ اسی قرآن کریم کی بدولت اسی دستور العمل کی رہبری سے۔پس تیرہ سو برس کا ایک مجرّب نسخہ موجود ہے جو اس قوم نے استعمال کیا جس میں کوئی خوبی نہ تھی اور خوبیوں کی وار ث اور نیکیوں کی ماں بنی غیرض یہ مجرّب نسخہ ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ کے قُرب اور سُکھ کی تلاش چاہو اسی قدر محامد الہٰیہ اور صفاتِ باری تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔کیونکہ اسی قدر انسان رذائل سے بچے گا اور پسندیدہ باتوں کی طرف قدم اٹھائے گا۔حاصلِ کلام ابرار بننے کے لئے مندرجہ بالا اصول کو اپنا دستور العمل بنانا چاہیئے۔میں نے ذکر یہ شروع کیا تھا کہ شاکر گروہ کا دوسرا نام قرآن کریم نے ابرار رکھا ہے اور ان کی جزایہ بتلائی ہے کہ کافوری پیالوں سے پئیں گے چنانچہ فرمایا  پہلے ان کو اس قسم کا شربت پینا چاہیئے کہ اگر بدی کی خواہش پیدا ہو تو اس کو دبا لینے والا ہو۔کافور کہتے ہی دبادینے والی چیز کو ہیں۔اور کافور کے طبّی خواص میں لکھا ہے کہ وہ سمی امراض کے مواد رویّہ اور فاسدہ کو دبا لیتا ہے اور اسی لئے وبائی امراض طاعون اور ہیضہ اور تپ وغیرہ میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔تو پہلے انسان یعنی سلیم الفطرۃِ انسان کو کافوری شربت مطلوب ہے۔قرآن کریم کے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبِ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ (الی الآیہ) پھر وارث کیا ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو جو برگزیدہ ہیں۔پس بعض ان میں سے ظالموں کا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور جبرو اکراہ سے نفسِ امّارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفسِ سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔