حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 286
پھر انسان اورسمجھدار انسان کب اعتقادِصحیحہ رکھتا ہوا اعمال بد کی طرف قدم اٹھا سکتا ہے اس لئے ابرار کے لئے پہلے ضروری چیز یہی ہے کہ اعتقاد صحیحہ ہوں اور وہ پکّی طرح پر اْس کے دل میں جاگزیں ہوں اگر منافقانہ طور پر مانتا ہے تو کاہل ہو گا۔حالانکہ مومن ہوشیار اور جالاک ہوتا ہے ان اعتقادات صحیحہ میں سے پہلا اور ضروری عقیدہ خدا تعالیٰ کا ماننا ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام خوبیوں کا چشمہ ہے۔دنیا میں ایک بچّہ بھی جانتا ہے کہ جب تک دوسرے سے مناسبت پیدا نہ ہو اس کی طاقتوں اور فضلوں سے برخوردار نہیں ہو سکتا۔جب انسان قرب الہٰی چاہتا ہے اور اس کی دِلی تمنّا ہوتی ہے کہ اْس کے خاص فضل اور رحمتوں سے بہرہ ور اور برخوردار ہو جائے تو اْسے ضروری ہے کہ اْن باتوں کو چھوڑ دے جو خدا تعالیٰ میں نہیں یا جو اْس کی پسندیدہ نہیںہیں۔جس قدر عظمتِ الہٰی دل میں ہو گی اسی قدر فرماں برداری کے خیالات پیدا ہوں گے اور رذائل کو چھوڑ کر فضائل کی طرف دوڑے گا۔کیا ایک اعلیٰ علوم کا ماہر جاہں سے تعلق رکھ سکتا ہے۔یا ایک ظالم طبع انسان کے ساتھ ایک عادل مل کر رہ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔پس خدا تعالیٰ کی برکتوں سے برخوردار ہونے کے لئے سب سے ضروری بات صفات الہٰی کا علم حاصل کرنا اور ان کے موافق اپنا عمل در آمد کرنا ہے۔اگر یہ اعتقاد بھی کمزور ہو تو ایک اور دوسرا مسئلہ ہے جس پر اعتقاد کرنے سے انسان خدا تعالیف کی فرماں برداری میں ترقی کر سکتا ہے۔وہ جزا و سزا کا اعتقاد ہے۔یعنی افعال اور ان کے نتائج کا علم مثلاً یہ کام کروں گا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ بْرے نتائج پر غور کر کے انسان۔ہاں سعید الفطرت انسان بُرے کاموں سے جو ان نتائج بدکا موجب ہیں پرہیز کریگا اور اعمالِ صالحہ بجا لانے کی کوشش یہ کہ دونوں اعتقاد نیکیوں کا اصل الاصول اور جڑیں یعنی اوّل خدا تعالیٰ کی صفات اور محامد کا اعتقاد اور علم تاکہ قرب الہٰی سے فائدہ اٹھاوے اور رذائل کو چھوڑ کر فصائل حاصل کرے۔دوسرا یہ کہ ہر فعل ایک نتیجہ کا موجب ہوتا اگر بد افعال کا مرتکب ہو گا تو نتیجہ بد ہو گا۔ہر انسان فطرتاً سُکھ چاہتا ہے اور سُکھ کے وسائل اور اسباب سے بے خبری کی وجہ سے افعالِ بَد کے ارتکاب میں سُکھ تلاش کرتا ہے مگر وہاں سُکھ کہاں؟ اس لئے ضروری ہے کہ افعال اور اُن کے نتائج کا علم پیدا کرے اور یہی وہ اصل ہے جس کو اسلام نے جزا و سزا کے لفظوں سے تعبیر کیا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان تجربہ کار اور واقف کار لوگوں کے بتلائے ہوئے مجرّب نسخے آرام و صحت کے لئے چاہتا ہے اگر کوئی ناواقف اور ناتجربہ کار بتلائے تو تأمّل کرتا ہے۔پس نبوّتِ حقّہ نے جو راہ