حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 285 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 285

… یعنی منکر انسان کے لئے کیا ہوتا ہے۔پاؤں میں زنجیر ہوتی۔گردن میں طوق ہوتا ہے جس کے باعث انواع و اقسام راحت و آرام سے محروم ہو جاتا ہے دل میں ایک جلن ہوتی ہے جو ہر وقت اس کو کباب کرتی رہتی ہے دنیا میں اس کا نظارہ موجود ہے مثلاً وہی نافرمان۔زانی۔بدکار قسم قسم کے آرام جسمانی میں مبتلا ہو کر اندر ہی اندر کباب ہوتے ہیں اور پھر نہ وہاں جا سکتے ہیں نہ نظر اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں اسی ہم و غم میں مصائب اور مشکلات پر قابو نہ پا کر آخر خود کشی کر کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ہدایت کے منکروں اور ہادیوں کے مخالفوں نے کیا پھل پایا۔دیکھو ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے منکر جنہوں نے اس ابدی راحت اور خوشی کی راہ سے انکار کیا کیا حال ہوا؟ وہ عمائد مکّہ جو ابوجہل۔عتبہ شیبہ وغیرہ تھے اور مقابلہ کرتے تھے وہ فاتح نہ کہلا سکے کہ وہ اپنے مفتوحہ بلاد کو دیکھتے اور دل خوش کر سکتے؟ ہرگز نہیں۔ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کی عزّت گئی۔آبرونہ رہی۔مذہب گیا۔اولاد ہاتھ سے گئی۔ْغرض کچھ بھی نہ رہا۔ان باتوں کو دیکھتے اور اندر ہی اندر کباب ہوتے تھے۔اور اسی جلن میں چل دئے۔یہ حال ہوتا ہے منکر کا۔جب وہ خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کا انکار کرتا ہے تو بُرے نتائج کو پا لیتا ہے اور عمدہ نتائج اور آرام کے اسباب سے محروم ہو جاتا ہے۔پھر دوسرے گروہ  کا ذکر فرمایا کہ شکر کرنے والے گورہ کے لئے کیا جزا ہے۔۔بے شک ابرار لوگ کا فوری پیالوں سے پئیں گے۔ابرار کون ہوتے ہیں جن کے عقائد۔صحیح ہوں۔اور ان کے اعمال صوابؔ اور اخلاص کے نیچے ہوں اور جوہر دُکھ اور مصیبت میں اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی نارضامندی سے محفوظ رکھ لیں۔خود جناب الہٰی ابرار کی تشریح فرماتے ہیں سورۃ البقرہ میں فرمایالَیْسَ الْبِرَّاَنْ تُوَتُوْا وُجُوْھَکُمْ الی الآیہ ابرار کون ہوتے ہیں؟ اوّل ؔ: جن کے اعتقاد صحیح ہوں کیونکہ اعمالِ صالحہ دلی ارادوں پر موقوف ہیں دیکھو ایک اونٹ کی ناک میں نکیل ڈالے ہوئے ایک بچہ بھی اسے جہاں چاہے جدھر لے جائے لئے جاتا ہے۔لیکن اگر کنویں میں گرانا چاہیں تو خواہ دس آدمی بھی مل کر اس کی نکیل کو کھینچیں ممکن نہیں وہ قدم اٹھا جاوے۔ایک حیوان مطلق بھی اپنے دِلی ارادے اور اعتقاد کے خلاف کرنا نہیں چاہتا وہ سمجھتا ہے کہ قدم اٹھایا اور ہلاک ہوا۔