حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 24
سُوْرَۃُ الْنَّجْمِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۵۔۔۔ ۔۔وہ اﷲ تعالیٰ جس کی ذاتِ بابرکات نے جسمانیظلمتوں میں تمہارے آرام کے واسطے ایسے جسمانی سامان بنائے ہیں جن سے تم آرام پاؤ بشرطیکہ انکی طرف توجّہ کرو۔اس نے تمہارے ابدی آرام اور روحانی راحتوں کے واسطے تدابیر نہ رکھی ہوں۔بے ریب رکھی ہیں۔جسمانی لیل اور چند گھنٹوں کی رات میں اگر کوئی راہنما ستارہ موجود ہے تو اس روحانی لیل اور غموم اور ھموم کی نہایت بڑی لمبی رات کے وقت بھی اﷲتعالیٰ کے فضل نے تمہاری منزلِ مقصود اور جاودانی آرام تک پہنچانے کا راہنما بھی ضرور رکھا ہو گا۔وہ کون ہے؟ بے ریب حضرت محمد مصطفٰی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔ثبوت۔مَاضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَاغَوٰی۔وجہ ثبوت۔اپنے ہی ملک میں ذرا تجربہ اور بلند نظری سے کام لو۔نظر کو اونچا کر کے دیکھو یہ شخص تمہارے شرکاء تمہارا ہم صحبتی جس کا نام محمد، احمد، امین ہے اور جس کو تمہارے چھوٹے بڑے انہیں پیارے ناموں سے پکارتے ہیں۔کیسا ہے؟ کیا تمہارے لئے کافی راہنما نہیں؟ بے ریب ہے۔کیونکہ نظریات کا علم ہمیشہ بدیہات سے ہوتا ہے۔اور غیر معلومہ نتائج تک پہنچنا ہمیشہ معلومہ مقدمات سے ممکن ہے۔نہایت باریک فلسفی کا پتہ عامہ قواعد سے لگتا ہے۔جانتے ہو۔کسی انسان کو انسانِ کامل یقین نہ کرنے کے تین اسباب ہوتے ہیں۔اوّلؔیہ کہ تم اس شخص کے حالات سے پورے واقف نہیں جس نے ہادی اور انسانِ کامل ہونے کا دعوٰی کیا۔دومؔ یہ کہ وہ شخص جس نے ہادیٔ کامل اور انسانِ کامل ہونے کا دعوٰی کیا اُسے صحیح علم نہ ہو۔سومؔ یہ کہ باوجود علمِ صحیح رکھنے کے اس کی عادت ایسی ہو کہ علم صحیح پر عمل نہ کرے۔سو اس رسول خاتم الرسل محمد صلی اﷲعلیہ وسلم میں ان تینوں عیوب میں سے ایک بھی نہیں۔مَاضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَاغَوٰی۔یعنی نہ بھولا اور نہ بے علمی سے کام