حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 250 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 250

کیونکہ کتاب استثناء کے ۱۸ باب ۱۸ میں لکھا ہے۔جھوٹا نبی مارا جائے گا۔لاکن تورات شریف اگر الہامِ الہٰی سے ہے اور سچ۔تو ہمارے ہادی صلی اﷲ علیہ وسلم سچّے رسول اور فِی نَفْسِ الاَمْر استثناء ۱۸ باب ۱۸ والے رسول ہیں۔اسی واسطے قرآن کریم بار بار حصرت احمد مجتبٰے محمد مصطفٰےؐ اور اپنے آپ کو (البقرہ:۴۲) فرماتا ہے۔کیا معنے؟ قرآن کریم اور نبیٔ عرب نے اپنے ظہور اور حفاظت اور قتل سے بج کر توریت کو سچا کر دکھایا۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ ۵۰۔۵۱) سورۃ مزمل مکّہ معظمہ میں اتری۔جب حضور علیہ السلام بظاہر نہایت کمزوری کی حالت میں تھے اور بظاہر کوئی سامان کامیابی کا نظر نہ آتا تھا۔قرآن نے صاف صاف جنابِ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا۔یہ رسول اس رسول کی مثل ہے جو فرعون کے وقت برگزیدہ اور بنی اسرائیل کا ہادی بنایا گیا۔جس طرح اس رسول حضرت موسٰی علیہ السلام کے دشمن بے نام و نشان ہو گئے۔ایسے ہی اس رسول کے دشمن معدوم ہوں گے۔۔۔ہم نے ہی بھیجا تھا تمہاری طرف رسول نگران تم پر جیسے بھیجا تھا فرعون کو رسول۔پھر جب نافرمانی کی فرعون نے اس رسول کی تو سخت پکر لیا ہم نے اسے۔پھر تم اگر اس رسول کے منکر ہوئے تو کیونکر بچو گے۔اور جس طرح جناب موسٰی علیہ السَّلام کی قوم دشمنوں سے نجات پا کر آخر معزز اور ممتاز اور خلافت اور سلطنت سے سرفراز ہوئی اسی طرح۔ٹھیک اسی طرح۔لاریب اسی طرح۔اس رسول کے اتباع بھی موسٰی علیہ السلام کی طرح بلکہ بڑھ کر ابراہیمؑ کے موعود ملک بالخصوص اور اپنے وقت کے زبردست وبادشاہوں پر علی العموم خلافت کریں گے۔۔(نور:۵۶) وعدہ دے چکا اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو تم میں سے جو ایمان لائے اور کام کئے انہوں نے اچھے