حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 249 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 249

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کی مسورت کی۔اسی واسطے ۱۰؍ جولائی ۶۲۲ ؁ء جمعہ کے دن آپؐ نے مکّہ سے ہجرت کی اور مدینہ منوّرہ کو چلے گئے۔دوسرے سال یعنی ۶۲۳ ؁ء میں بدر کا معرکہ ہوا جس میں وہ سب معاندین اور مخالفین تباہ اور عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے۔وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔(فصل الخطاب حصقہ دوم صفحہ ۸۸ تا صفحہ ۹۰)۔بیشک و ریب ہم نے (اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے) تمہاری طرف بھیجا عظمت والا رسول نگران تم پر۔اور یہ رسول اس رسول کی مانند ہے جس کو ہم نے فرعون کے پاس بھیجا۔: منکرو! بتا, تم تم کیسے بچو گے عذاب سے اگر تم نے اس رسول کا انکار کیا۔کیا معنی۔اگر فرعون موسٰی علیہ السلام کے انکار سے سزا یاب ہوا۔تو تم منکرو کیونکر بچ سکتے ہو۔یہ آیت شریف کتاب استثناء کے ۱۸ باب ۱۸ کی طرف راہنمائی فرماتی ہے۔غرض اسی طرح کی بہت آیات قرآن کریم میں موجود ہیں اور اُن آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت۔نبوّت۔راستی اور راست بازی پر پورا اور اعلیٰ درجہ کا یقین تھا۔اور اولڈٹیسٹمنٹ کو ماننے والا بعد انصاف ہرگز انکار نہیں کر سکتا۔کیونکہ استثناء ۱۸ باب ۱۸ میں اور اعمال ۳ باب میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی موسٰی علیہ السلام کی مانند آنیوالا ہے اور تو ریت میں یہ بھی لکھا ہے کہ جھوٹا نبی جو از راہِ کذب و افتراء اپنے آپ کو موسٰی علیہ السلام کی مانند کہے مارا جاوے گا۔حضور (فداہ ابی و امی) نبیٔ عرب نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی مانند رسول ہونے کا دعوٰی فرمایا۔جیسا گزرا۔اور آیت شریف (المائدہ:۶۸) جس کے معنی ہیں اﷲ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بجا لیگا پڑھ کر پہرہ اور حفاظت کو بھی دور کر دیا۔مدینہ کے یہود اور عیسائی قوم کو صاف صاف سنا دیا کہ مَیں قتل نہ کیا جا,ں گا۔اور اﷲ کے فضل سے قتل سے بج رہے صلی اﷲ علیہ وسلم۔عیسائی صاحبان۔اگر نبیٔ عربؐ اس دعوٰی نبوّت میں فرما کر استثناء ۱۰ باب ۱۸ اور اعمال ۳ باب والا دعوٰی ہے ( اور بالکل ظاہر ہے کہ نبیٔ عربؐ قتل نہیں کئے گئے)۔کاذب ہیں( معاذ اﷲ ) تو توریت کتاب مقدّس نہیں بلکہ بالکل علط اور کذب ہے