حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 248
اس جگہ باری تعالیٰ اپنے کلام میں ہاں صادق کلام میں نبیؐ عرب کو موسٰیؑ کا مثیل و نظیر فرما کر اہلِ عرب سے خطاب کرتا ہے کہ جیسے فرعونی بموسٰی کے عصیان کے باعث تباہ ہوئے۔ویسے ہی اس نبی کے عاصی اور مخالف بھی تباہ اور ہلاک ہو جائیں گے اور پھر فرمایا:۔(الانفال:۳۴) جب تک تو اے رسول! ان میں ہے۔اﷲ ان پر عذاب نہ لاوے گا۔پھر اس پیشین گوئی کا وقت صاف صاف بتا دیا اور اس کی حد باندھ دی کہ حد ہی کر دی۔فرمایا (سبا:۳۱) تُو کہدے ( اے محمدؐ ) تمہارے واسطے لایک سال کی میعاد ہے کہ اس سے ایک ساعت ادھر اُدھر نہ کر سکو گے۔پھر اور توضیح و تصریح کی۔فرمایا۔۔(بنی اسرائیل:۷۷) یقینًا یہ لوگ ( اہلِ مکّہ) تجھے (محمدؐ) اس زمین ( مکّہ) سے نکال ڈالنے والے ہیں۔جب تو تیرے بعد یہ لوگ بھی تھوڑی ہی دیر رہیں گے۔اﷲ اﷲ یہ پیشین گوئی کیسی پوری ہوئی۔عادت اﷲ قدیم سے اس طرح پر جاری ہے کہ جن قوموں نے ہادیانِ برحق کے نصائح نہ سُنے اور ان کے دِل سوز مشفقانہ کلام پر دھیان نہ کیا۔ضرور وہ کسی نہ کسی تباہی میں گرفتار ہوئے اور جھوٹے نبی کا نشان یہ دیا گیا ہے کہ وہ قتل کیا جاوے گا۔اور جو کوئی اس نبی کی بات نہ مانے گا۔سزا پائے گا۔اب کفّارِ عرب اس سچّے رؤف و رحیم ہادی کو جھٹلا چکے ہیں۔طرح طرح کی اذیتیں دل کو کپکپا دینے والے آزار دے چکے ہیں۔چونکہ وہ نبی صادق و مصدوق ہے اور وہ نبی وہ ہے جس کی نسبت موسٰی و عیسٰی بڑے فخر سے بشارت دیتے چلے آئے ہیں۔اب خدائی غضب اُمنڈ آیا۔کلمۃ اﷲ بر سرِ انتقام آمادہ ہوا کہ ان کے دشمنانِ دینِ حق کو ہلاک کیا جاوے۔مگر باری تعالیٰ باایں ہمہ اپنے رسول سے فرماتا ہے۔کہ جب تک تو ان لوگوں میں موجود ہے ( یعنی سرزمینِ مکّہ میں) اُن پر عذاب نہ ہو گا۔اور عالم الغیب حق تعالیٰ ایک سال اس کی میعاد مقرّر فرماتا ہے کہ یقینًا اس عرصے میں بلا تقدم و تاخر ایک ساعت کے یہ واقعۂ زوال و قوع میں آئے گا۔قدرتِ حق کا کرشمہ مشاہدہ فرمایئے کہ کیونکر یہ وعدہ ایک سال بعد پورا ہوتا ہے۔اب کفّارِ عرب نے جن کا سرغنہ ابوجہل تھا