حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 242 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 242

۔۔(الفرقان:۴۲۔۴۳) اور جہاں تجھ کو دیکھا کچھ کام نہیں تجھ سے مگر ٹھٹھے کرتے۔کیا یہی ہے جس کو بھیجا اﷲ نے پیغام دے کر۔یہ تو لگاھی تھا کہ بچلاوے ہم کو ہمارے ٹھاکروں سے۔کبھی ہم نہ ثابت رہتے اُن پر۔اور آگے جائیں گے جس وقت یہ دیکھیں گے عذاب۔کون بچلاہے راہ سے۔امر ہشتم۔اس پر ہم نے برہانِ نبوّت کے واسطے ایک علیحدہ باب قائم کیا ہے۔اور مفصّل مضمون لکھا ہے۔دیکھو مضمون قرآن کی پیشگوئیاں۔مگر اس جگہ مختصرًا اُس مضمون کی تجدید کی جاتی ہے۔اوّل اوّل آنحضرتؐ نے مکّہ میں موسٰی کی مثلیت کا دعوٰی کیا اور اپنے مخالفین کو آنے والے عذاب سے مخالفت کے باعث ڈڑایا۔اس پر کفّارِ مکّہ نے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اُس کا نشان ہمیں دکھا کہ ہم پر عذاب آوے۔چنانچہ قرآن مجید اس معاملہ کی اس طرح خبر دیتا ہے۔۔(الانعام:۶۔۷) جُھٹلا چکے حق بات کو جب ان تک پہنچی۔اب آگے آوے گا اُن پر حق اُس بات کا جس پر ہنستے تھے۔کیا دیکھتے نہیں کتنی ہلاک کیں ہم نے پہلے اُن سے سنگتیں۔ان کو جمایا تھا ہم نے ملک میں جتنا تم کو نہیں۔جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان برستا اور بنا دیں نہریں بہتی ان کے نیچے۔پھر ہلاک کیا ان کے گناہوں پر اور کھڑی کی ان کے پیچھے اَور سنگت۔اس آیت میں بدوں معیاد معنیہ کے مطلق تکذیب پر ہلاکت کی خبر دی۔پھر فرمایا۔۔۔(الانعام:۶۷۔۶۸) اور تیری قوم نے اسے جھٹلایا حالانکہ یہ حق ہے۔تو کہہ دے۔اے محمدؐ مَیں تم پر وکیل نہیں ہوں۔ہر ایک خبر کے لئے ایک وقت مقرّر ہے پس عنقریب تم جان لو گے۔