حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 239
۳۔(البقرہ:۲۴) اور اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندے پر تو لا, ایک سورت اس قسم کی اور بلاؤ جن کو حاضر کرتے ہو اﷲ کے سوائے۔اگر تم سچّے ہو۔نوٹ: کلام منہ میں ڈالنا یا دل میں ڈالنا۔اس بات کی طرف اشارہ ہے۔کہ وہ کلام اُس نبی کے قلبِ نبوّت پر لفظًا یا معنًا بہ ہمیں ترتیب بلا تقدم و تاخر خدا کی طرف سے ڈالا گیا ہے۔آیت دومؔ میں خداوند خدا قرآن کا جامع اور قاری اپنی ذاتِ مقدّس کو ٹھہرایا ہے۔اور آنحصرتؐ کو صرف پڑھ سنانے والا مقرّر فرماتا ہے۔یہ بڑا بھاری اشارہ پیسینگوئی کے امر سوم کی طر ف ہے کہ مَیں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔امرِ چہارم: حجۃ الوداع یعنی آکری حج میں آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے سب لوگوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا۔چنانچہ چند الفاظ اُس طویل خطبے کے آخر سے نقل کئے جاتے ہیں۔اَللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ فَقَالَ النَّاسُ اَللّٰھُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ۔اے میرے پروردگار کیا مَیں نے سب کچھ پہنچا دیا۔لوگوں نے کہا۔ہاں۔تب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔اﷲ میرے تو گواہ رہ۔۱۔(المائدہ:۴) آج میںپورادے چکا تم کو دین تمہارا اور پورا کایا مَیں نے تم پر احسان اپنا اور پسند کیا مَیں نے تمہارے واسطے دین مسلمان۔نوٹ : یہ آیت اور وہ حدیث باظحارِ حق و باقرار عباد گواہی دیتی ہگے۔کہ آنحضرت ؐ نے سب کچھ بتلایا۔امرِپنجم: تمام مکّہ اور حجاز کے گھر گھر کو دیکھو تمام مخالفوں اور اس کا کہا نہ ماننے والوں کا نام و نشان ہی نہ رہا۔اور دیکھو کہ آیت ( الکوثر:۴) (بے شک جو بَیری ہے تیرا وہی رہا پیچھا کٹا ) کہا۔پیشینگوئی کیسی پوری ہوئی۔اہلِ حجاز پر ہی کیا منحصر ہے۔تمام عرب اور بلادِشام پر غور کرو۔جو خدا کی خاص چھاو۱نی اور کل انبیائے بنی اسرائیل کا ہیڈ کوارٹر اور کالج ہے۔دیکھو اسی پیشین گوئی کے مطابق قرآن فرماتا ہے۔