حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 238
دیکھو۔قرآن نے صاف بتایا۔قرآن نے صریح کہا۔قریش لوگو! تم اپنے باپ ابراہیمؑ کے مذہب کو اختیار کرو۔امر دومؔ۔وہ نبی موسٰی کا سا ہو گا۔اور قرآن میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت لکھا ہے۔۱۔( المزمل:۱۶) ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول بتانے والا تمہارا جیسے بھیجا فرعون کے پاس رسول۔۲۔( الاحقاف:۱۱) تو کہہ۔بھلا دیکھو تو۔اگر یہ ہو اﷲ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا۔اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک ایسی کتاب کی۔پھر وہ یقین لایا۔کی تنوین واسطے تفخیم و تعظیم کے ہے۔اور لفظ قابلِ غور ہے۔۳۔(الاحقاف:۳۱) بولے اے قوم۔ہم نے سنی ایک کتاب جو اُتری ہے۔موسٰی کے پیچھے۔سچّا کرتی ہے سب اگلیوں کو۔سمجھاتی سچا دین اور راہ سیدھی۔نوٹ: حضرت موسٰی کا قصّہ بتکرار وکثرت قرآن میں مذکور ہونا اس امر کا اشارہ اور اظہار کرتا ہے کہ قرآن اپنے رسولِ عربی کو مثیلِ موسٰی ثابت کرتا ہے۔امر سومؔ کی نسبت فرماتا ہے: ا۔۔۔(نجم:۴،۵) اور نہیں بولتا ہے اپنے چا, سے یہ تو حکم ہے جو بھیجتا ہے۔۲۔۔۔۔۔(القیامۃ: ۱۷ تا ۲۰) نہ چلا تو اُس کے پڑھنے پر اپنی زبان شتاب کہ اس کو سیکھ لے۔وہ تو ہمارا ذمہ ہے۔اس کو سمیٹ رکھنا ار پڑھانا۔پھر جب ہم پڑھنے لگیں تو ساتھ رہ۔تو اس کے پڑھنے کے۔پھر مقرر ہمارا ذمّہ ہے اس کو کھول بتانا۔