حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 237 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 237

ہفتم: وہ نبی توحید کا واعظ۔غیر معبودوں کی پرستش کا مانع ہو گا۔اگر غیر معبودوں کے نام سے کچھ کہے گا تو مارا جائے گا۔ہشتم: اس کی پیشین گوئیاں پوری ہوں گی۔اور جھوٹے نبی کی کوئی پیشین گوئی پوری نہ ہو گی۔’’کچھ ‘‘ کے لفظ پر غور کرو۔جو بشارت کے اس فقرے میں ہے ( جب نبی کچھ خداوند کے نام سے کہے) نہم: سچا اس قابل ہے کہ تُو اس سے ڈرے۔اِلَّا جھوٹا نبی چونکہ جلد ہلاک ہو جاوے گا۔تُو اس سے مت ڈر۔یہی چند باتیں اس پیشینگوئی میں ہیں جن پر ناظرین کو غور کرنا چاہیئے۔موسٰیؑ نے اپنی مثلیت کے لئے اپنی کوئی خاص صفت اُن امور کے سوا بیان نہیں کی۔گو موسٰیؑ میں ہزاروں اور صفات ہوں۔اِلَّا یہ امر کہ وہ نبی مجھ ساکنِ صفات میں ہو گا۔سوائے امور مذکورہ پیشین گوئی کے بیان نہیں فرمایا۔پس ہم یقین کرتے ہیں اور ہر مصنف تسلیم کرے گا۔کہ انہیں امور میں تشبیہ اور مثلیت موسٰی کو مقصود تھی۔علاوہ بریں جب کسی چیز کو کسی چیز کا مثل کہا جاتا ہے تو صرف چند امورِ محقّقہ میں تشبیہ مطلوب ہوتی ہے۔اب ہم دکھلاتے ہیں۔کہ قرآن نے اس پیشین گوئی کو محمّد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت ثابت ہونے کا صرف دعوٰی ہی نہیں کیا۔بلکہ کل مدارج طے کر کے سچّا کر دکھایا اور تمام امور مندرجۂ پیشین گوئی کو تسلیم کر کے بڑے دعوٰی سے کہا کہ آنحضرت کے سوا اَور کوئی اس کا مصداق ممکن نہیں۔امر اوّل: بنی اسمٰعیل بنی اسرائیل کے بھائی ہیں۔دیکھو قرآن میں آنحضرت ؐ کو حکم ہوا۔(الشعرا:۲۱۵) اور ڈر سناوے اپنے نزدیک کے ناتے والوں کو۔اس پر آنحضرتؐ اپنی قوم کو حکم دیتے ہیں۔(حج:۷۹)اور محنت کرو اﷲ کے واسطے جو چاہیئے اُس کی محنت۔اُس نے تم کو پسند کیا اور نہیں رکھی دین میں تو پر کوئی مشکل۔دین تمہارے باپ ابراہیمؑ کا۔اس نے نام رکھا تھا تمہارا مسلمان حکم بردار پہلے سے۔۲۔(ابراہیم:۳۸)