حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 226
۔ ۔۔۔ ۔اور یہ کہ سجدے کے ہاتھ پا,ں حق اﷲ کا ہے۔سو مت پکار اﷲ کے ساتھ کسی کو اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اﷲ کا بندہ اس کو پکارتا۔لوگ کرنے لگتے ہیں اس پر ٹھٹھا۔تو کہہ مَیں تو یہی پکارتا ہوں اپنے ربّ کو اَور شریک نہیں کرتا اُس کا کسی کو۔تو کہہ میرے ہاتھ میں نہیں تمہارا بُرا اور نہ راہ پر لانا تو کہہ مجھ کو نہ بچاوے گا اﷲ کے ہاتھ سے کوئی اور نہ پا,ں گا اُس کے سوا کہیں سرک رہنے کی جگہ۔( فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۹) مستحقِ عبادت اسلام کے نزدیک صرف وہ ہے۔جو خود، کل کے نفع و ضرر کا مالک و مختار ہو اور اس کا نفع و صرر کسی سے ممکن نہ ہو۔وہی جس کا کمال جلال و جمال ذاتی ہو۔اور تمام اس کے سوا اپنے وجود و بقا میں اسی کے محتاج۔سب کے کمالات جمال و جلال اسی کے عطا ہوں۔اور ایسی چیز اﷲ تعالیٰ کے ماسوا اہلِ اسلام کے نزدیک کوئی بھی نہیں۔سب سے افضل۔اکمل۔حضرت سیّد ولدِ آدم صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجودِ باجود ہے۔ان کی پاک جناب کو بھی اسلامی اﷲ کا بندہ۔اﷲ کا رسول ہی اعتقاد کرتے ہیں۔اسلام کا اعتقاد ہے کہ ایک ذرّہ کے بنانے کا بھی اختیار انہیں نہیں۔ایک رتّی برابر کسی کے نقصان دینے کی قدرت نہیں آپؐ خالقِ کائنات نہیں۔قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے……… اور مسجدیں اﷲ کے لئے ہیں۔پس اﷲ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔اور جب اﷲ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے اٹٍا۔تو اس پر ٹوٹ بڑنے لگے۔کہ مَیں اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔کہہ مَیں تماہرے ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا۔کہہ کوئی مجھے کائی عذاب سے پناہ