حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 19
زمیندار اور گاؤ ماتا کے بچے دُکھ اٹھاویں اور غلّہ پیدا ہو۔زیرِ اعتراض یہ آیتیں ہیں۔(پ ۲۷۔ذاریات) (ق:۳۹)کس قدر صاف اور صریح بات ہے مگر بدفطرت نکتہ چین ہر ایک حسن کو بدصورتی ہی قرار دیتا ہے اس میں ایک لفظ یدؔہے۔جس پر صفاتِ الہٰیہ سے جاہل کو اعتراض کا موقعہ مل سکتا ہے…… صفات اپنے موصوف کی حیثیت اور طرز پر واقع ہوتی ہیں۔مثلاً چیونٹی کا ہاتھ۔میرا ہاتھ۔شیر کا ہاتھ اور مثلاً اس وقت ہند کی حکومت لارڈ کرزن کے ہاتھ میں ہے۔بیہودہ بکواس کرنا۔اناپ شناپ کہہ دینا اور بدُوں علم و فہم کے اور بدُوں اس کے کہ ویدوں کا تمہیں علم ہو۔ویدوں کی تائید میں گالی دینا۔جھوٹ بولنا تمہارے ہاتھ میں ہے۔اور اس کے سوا تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں اور اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں تمام جہان کا تصرّف ہے وغیرہ۔وغیرہ۔اسی طرح ضروری ہے کہ جنابِ الہٰی کی شان کے مطابق اس کے ہاتھ مانو اور اگر یوں نہیں مانتے تو سُنو! سام وید فصل دوم حصّہ دو کاپرچھانک نمبر ۶ صفحہ ۷۴ میں ہے۔’’ اندر بطور اس دیوتا کے جس کا بازو قوی ہے ہمارے لئے اپنے ہاتھ سے بہت سی پرورش کرنے والی لُوٹ جمع کر‘‘بتاؤ اندر کون ہے؟ پھر اس کا داہنا ہاتھ کیا ہے؟ اور اس سے لُوٹ کرناکیسے الفاظ ہیں؟ کیا تم نے پرمیشر کا نام سہنسر باہو نہیں پڑھا اگر نہیں پڑھا تو یجروید کاپرش سکت دیکھو۔پھر اور سنو! یَدْ کے معنے قوّت کے ہیں۔قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہے(صٓ:۱۸)یعنی یاد کرو ہمارے بندے داؤدؑ کو بہت ہاتھوں والا ( بڑا طاقت ور)وہ جنابِ الہٰی کی طرف توجہ کرنے والا ہے اور یدؔ کے معنی نصرت وغیرہ کے بھی ہیں۔راغب میں ہے۔ (فتح:۱۱)اَيْ نُصْرَتِہٖ وَ نِعْمَتِہٖ وَقُوَّتِہٖ یَدؔ کے معنی ملک و تصرّف کے بھی ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے (بقرہ:۲۳۸) ا ن معنوں میں سے ہر ایک یہاں چسپاں ہو سکتا ہے۔اور عام انسانی بول چال میں ہاتھ کا لفظ ان سب معنوں پر بولا جاتا ہے۔(نور الدین طبع سوم صفحہ۲۰۳۔۲۰۴) ۵۷۔۔جنّ و انس کی پیدائش اس لئے ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی فرماں برداری کریں۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۲۶ دیباچہ)