حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 220
سُوْرَۃَ الْجِنِّ مَکِّیَّۃٌ ۲۔ ۔: جنّ اﷲ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے۔جیسے ملائک وغیرہ اور اس کی مخلوق ہے۔جیسے ملائک وغیرہ اور اس کی مخلوق ہیں۔میں ہرگز ہرگز اس بات کا قائل نہیں۔کہ جنّ اور ملائکہ کوئی چیز نہیں ہیں۔مَیں دونوں کا قائل ہوں۔لیکن ہر جگہ جنّ کے لفظ کے وہی ایک معنی نہیں۔اور جو خیال کیا جاتا ہے کہ بعض عورتوں بچوں کو جنّ چمٹ جاتے ہیں۔مَیں اس کا قائل نہیں ہوں۔لُغت کی رُو سے جنّ ان باریک اور چھوٹے چھوٹے موذی حیوانات کو بھی کہتے ہیں جو غیر مرئی ہجیں اور صرف خوردبینوں سے دکھائی دے سکتے ہیں۔طاعون کے باریک باریک کیڑے بھی جنّ کے نام سے موسوم ہیں۔اسی طئے حدیث شریف میں طاعون کو وَخْزُ اَعْدِائِکُمْ مِنَ الْجِن فرمایا۔اَحْمَدُ عَنْ اَبِی مُوْسٰی اَشْعَرِیْ۔طَبْرانِی فِی الْاَوْسَطِ عَنْ اِْنِ عُمَرَؓ کے معنے نیش زنی اور طعن کے ہیں۔جنّ لُغت میں بڑے آدمیوں کو بھی کہتے ہیں۔جِنُّ النَّاسِ مُعَظّمُھُمْ شاید بڑے پیسے والے ساہوکاروں کو بھی مہاجن اسی واسطے کہا گیا ہے۔کبوتر کے پیچھے دوڑنے والے انسان کو بھی جنّ کہا ہے۔سورہ احقاف رکوع ۴ میں ایک قوم کا ذکر ہے۔(احقاف:۳۰) اس قوم نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے قرآن شریف سُن کر (احقاف:۳۱) کہا۔جنّ کے مدّ مقابل انسان ہیں۔انس غریہ لوگ۔جنّ بڑے لوگ۔سورۃ الحجر میں انسان اور ’’ جانّ‘‘ دونوں کی پیدائش کا ذکر ایک ساتھ ایک ہی آیت میں یکے بعد دیگرے آیا ہے۔۔