حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 212
۲۔ ۔:حضرت نوح علیہ السلام کا ملک دجلہ۔نینوا اور فرات کے درمیان تھا۔عبرانی زبان میں نوح ( ) آرام اور امن کو کہتے ہیں۔حضرت نوحؑ کا زمانہ بڑے آرام کا تھا مگر لوگوں نے اس آرام کی قدر نہ کی۔اور اس کے حکموں کی نافرمانی کی اور شرارتوں پر کمر باندھی۔تب ان پر سخت عذاب آیا۔موجود زمانہ بھی حضرت نوحؑ کے زمانہ کی طرح پُر امن زمانہ ہے۔لوگ عیش و عشرت میں مصروف ہیں۔اس زمانہ میں بھی خداوند تعالیٰ نے ایک نوحؑ بھیجا ہے۔اور اس نے ایک کشتی تیار کی ہے مبارک ہیں وہ جو اس میں سوارہوئے۔حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہماری موعظت کے واسطے کیا ہے۔دنیا میں انسان چاہتا ہے کہ اس کی لمبی عمر ہو۔اس واسطے طبّ کا علم ایجاد ہوا اور اسی حفاظت کے واسطے مکان۔لباس۔خوراک۔مضبوط قلعہ۔فوجی سامان وغیرہ سب مہیّا کئے جاتے ہیں۔بوڑھے بھی چاہتے ہیں کہ اَور مدّت زندہ رہیں۔پھر انسان چاہتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔پھر چاہتا ہے۔کہ اسے مال ملے۔پھر چاہتا ہے کہ اس کے دشمن ہلاک ہوں تاکہ وہ امن سے زندگی بسر کرے۔یہ سب انسان کا فطری تقاضا ہے۔اور ان کو پورا کرنے کا نسخہ بتلانے کے واسطے اﷲتعالیٰ کے عظیم الشّان رسول دنیا میں آئے۔حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم۔حضرت موسٰی علیہ السلام۔حضرت ابراہیم علیہ البرکات۔ایسے ہی شاندار نبی حضرت نوح علیہ السلام اپنے زمانہ میں تھے اور انہوں نے کامیابی کا جو نسخہ اپنی قوم کے سامنے پیش کیا اس کا ذکر اس سورۂ شریف میں ہے۔