حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 208
: زمین کی تدبیر کے واسطے جو معاملات اوپر پیس ہوتے ہیں۔ان کا ذکر ہے۔فرشتوں کے چڑھنے اترنے کا ذکر توریت کتاب پیدائش میں بھی ہے۔باب ۲۸ میں لکھا ہے ’’ سو یعقوب بیرسبع سے نکل کے حاران کی طرف گیا۔اور ایک جگہ میں اترا اور رات بھر وہاں رہا۔کیونکہ سورج ڈوب گیا تھا۔اور اس نے اس جگہ کے پتھروں میں سے اٹھا کر اپنا تکیہ کیا اور وہاں لیٹ کے سو گیا اور اس نے خواب دیکھا اور کیا دیکھتا ہے۔کہ ایک سیڑھی زمین پر دھری ہے۔اور اس کا سرا آسمان کو پہنچا ہے۔اور دیکھو۔خدا کے فرشتے اس پر چڑھتے اترتے ہیں‘‘ آسمانی کتب اور پیشگوئیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے تغیرات کے مختلف دورے ہوتے ہیں۔ایک دَورہ پچیس سالہ ہوتا ہے۔ایک پچاس سالہ۔ایک صد سالہ ( جو مجدّد کا دَورہ ہے) ایسا ہی ہزار سالہ اور پچاس ہزار سالہ دَورے بھی ہوتے ہیں۔تاریخ اسلام میں ان تغیرات زمانہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ایک دَور تیس سال کا تھا۔جبکہ خلافت راشدہ ختم ہوئی۔پھر ایک ساٹھ سالہ انقلاب تھا جبکہ امیر معاویہ کا انتقال ۶۰ ھ اعلیٰ صاحبہٖ التحیۃ والسلام ) میں ہوا اور اس کے بعد کوئی صحابی بادشاہ نہ ہوا۔ایسا ہی ایک دَور سو سال کے قریب قریب کا ہے۔جس میں روایت بلاواسطے ختم ہو گئی اور ایک دَور پانچ سو سال کا ہے۔جب کہ سلطنتِ عرب کا خاتمہ ہو گیا اور اسی طرح ایک دَور ہزار سال کا ہے۔جس کے بعد اہلِ یورپ کو کمپنیاں بنانے اور تجارت وغیرہ کے لئے باہر نکلنے کا خیال شروع ہو۔اور یا جوج ماجوج کے غلبہ کی ابتداء ہوئی۔اسی طرح ایک دَور پچاس ہزار سال کا بھی ہے۔جس پر ایک انقلاب عظیم واقع ہوتا ہے۔یہ کوئی تعجّب کی بات نہیں ہے کہ ایک حکم ـپر پچاس ہزار سال ہو گئے اس کی مثالیں خود دنیا میں موجود ہیں۔کوئی مقدمہ ہو تو محکمہ پولیس میں اس کی کاروائی فورًا ہو جاتی ہے۔مجسٹریٹ ضلع مہینوں کی تاریخ دیتا ہے اور چیف کورٹ میں سالوں کی تاریک ملتی ہے۔پریوی کونسل میں اس سے زیادہ۔ایسا ہی قدرت میں اس کا نظارہ موجود ہے۔بعض اناج تین ماہ میں پکتے ہیں۔بعض چھ ماہ میں۔آم سال کے بعد۔کھجور کئی سال کے بعد۔بعض سینکڑوں یا ہزاروں سالوں کے بعد پکتے ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۹،۱۰۔۔