حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 199 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 199

میں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔مَیں ہی زمین آسمان اور رُوحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق اہوں۔مَیں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرّہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے۔مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے۔جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش بھی کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے تو مَیں می جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ مَیں قرآن شریف کی وہ آیت دکھاتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کردوں گا۔ورنہ مَیں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اس اعتراض کی بنیاد تو محض اس بات پر ہے کہ عرش کوئی علیحدہ چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔اور جب یہ امر ثابت نہ ہو سکا تو کچھ اعتراص نہ رہا۔خدا صاف فرماتا ہے کہ وہ زمین پر بھی ہے اور آسمان پر بھی ہے اور کسی چیز پر نہیں۔بلکہ اپنے وجود سے آپ قائم ہے اور ہر ایک چیز کو اٹھائے ہوئے ہے۔اور ہر ایک چیز پر محیط ہے۔جہاں تین ہوں تو چوتھا ان کا خدا ہے۔جہاں پانچ ہوں تو چھٹا ان کے ساتھ خدا ہے اور کوئی جگہ نہیں جہاں خدا نہیں اور پھر فرماتا ہے اَ(البقرۃ:۱۱۶) جس طرف تم مُنہ کرو اُسی طرف تم خدا کا مُنہ پاؤگے۔وہ تم سے تمہاری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔وہی ہے جو پہلے اور وہی ہے جو آخر ہے اور سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے اور وہ نہاں در نہاں ہے اور فرماتا ہے۔ (البقرۃ: ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہا ہے۔پس جواب یہ ہے کہ ایسا نزدیک ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں۔جو شخص مجھ پر ایمان لا کر مجھے پکارتا ہے تو مَیں اس کا جواب دیتا ہوں۔ہر ایک چیز کی کَل میرے ہاتھ میں ہے۔اور میرا علم سب پر محیط ہے۔مَیں ہی ہوں جو زمین و آسمان کو اُٹھا رہاہوں۔مَیں ہی ہوں جو خشکی تری میں اٹھا رہا ہوں۔یہ تمام آیات قرآن شریف میں موجود ہیں۔بچّہ بچّہ مسلمانوں کا ان کو جانتا ہے اور پڑھتا ہے جس کا جی چاہے وہ ہم سے آ کر ابھی پوچھ لے۔پھر ان آیات کو ظاہر نہ کرنا اور ایک استعارہ کو لے کر اس پر اعتراض کر دینا کیا یہی دیانت آریہ سماج کی ہے۔ایسا دنیا میں کون مسلمان ہے جو خدا کو