حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 198
ہزاروں پاؤ جس سروتربیاپک جگ ویشور میں ہیں۔وہ پرش ہے۔وہ تمام بھوگول میں سب طرف سے بیاپت یہ پانچ استھول ( عناصر خمسہ) پانچ سو کھشم ( حواس ) یہ دس بھوت جس کے انگ ہیں اور وہ سب جگت ( مخلوق ) کو اولنگھ کر ( کود کر) ٹھیرا ہے۔اور منتر ۳: اس ایشور کی سب زمین وغیرہ چراچر جگت (کل مخلوق) ایک جزو ہیں اس جگت بنانیوالے کے تین حصّہ ناش رہت مہما اپنے منور سروپ میں ہے۔نمبر ۴: اور کہا تین حصّوں والا پرمیشور سب سے اوتم سنسار سے الگ لکت سروپ نکلتا ہے اس پرش کا ایک حصّہ سے ایک جگت میں پھر ہر پیدائش اور پر لے کا چکّر کھاتا ہے۔نمبر۵ میں ہے ’’ اس براٹ سنسار کے اوپر سردار پورن برہم رہتا ہے۔اس کے بعد یہی وہ پہلے سے ظاہر برش جگت سے علیحدہ رہتا ہے۔‘‘ غرض سترہ منتر تک یہی مضمون مکّرر کیا گیا ہے پہلے منتر میں یہ لفظ کہ وہ سب جگت کو اولنگھ کر ٹھیرا ہے۔منصف انسان کے لئے قابلِ غور ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے۔کہ وہ خدا پر میشر سب جگت کو پھاند کر ٹھہرا ہے۔اور تیسرے منتر کا مطلب ہے کہ خدا پر میشور کے چار حصّہ ہیں۔ایک حصّہ مخلوق میں اور تین حصّہ بالاتر ہیں۔اور نمبر ۴ کا مطلب ہے کہ پرمیشور سنسار سے الگ ہے اور اس کے تین حصّہ خلق سے بالا ہیں اور نمبر ۵ میں ہے۔اوپر پورن برہم رہتا ہے۔اور ( دیوتہ۔امرت مانشوناش ترشئے وہام لوگ ندھیر تم) کا مطلب اور عرش پر ہے کا مطلب اگر ایک نہ ہو تو ہم ذمّہ دار ہیں۔سوال سوم: اگر قرآن کریم نے آٹھ کا ذکر کیا ہجے تو وہاں فرشتوں کا تذکرہ نہیں مگر آپ کے ہاں صاف مسلّم ہے کہ آٹھ دیوتا اس کے تختِ سلطنت کو اٹھا رہے ہیں۔یہ دیکھو ستیارتھ پرکاش صفحہ ۴۴ میں ہے۔کہ یاگو لکیہ جی نے شاکلیٔہ کو فرمایا ہے۔آٹھ دسویہ ہیں۔پھر ان کی تفصیل کرتے کہا ہے کہ ان سب کو دسویہ اس لئے کہتے ہیں کہ ان میں یہ گنجِ کائنات محفوظ اور قائم ہے یاگو لکیہ کی معتقدہ انسانی بات کو ماننا اور خدائے پاک کی بات کو نہ ماننا کیسی بے انصافی ہے۔اور حقیقی بات سناتے ہیں۔سنو! مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے۔جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو۔اس میں ہرگز نہیں پا, گے کہ عرش کوئی چیز محدوداور مخلوق ہے۔خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا