حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 197

الْکَرِیْمِ تَتَرَقّٰی فِیْ اسْتِعْدَادَاتِھَا فَتَتَمَوَّجُ الرَّبُوْبِیَّۃُ وَ الرَّحْمَانِیَّۃُ وَ الرَّحِیْمِیَّۃُ وَ الْمَالِکِیَّۃُ بِحَسَبِ قَابِلِیَّاتِھِمْ وَ اسْتِعْدَا دَاتِھِمْ کَمَا تَشْھَدُ عَلَیْہِ کُشَوْفُ الْعَارِفِیْنَ۔وَ اِنْ کُنْتَ مِنَ الَّذِیْنَ اُعْطِیَ لَھُمْ حَظٌّ مِّنَ الْقُرْاٰنِ فَتَجِدُ فِیْہِ کَثِیْرًا مِّنْ مِّثْلِ ھٰذَا الْبَیَانِ۔فَانْظُرْ بِالنَّظَرِ الدَّقِیْقِ۔لِتَجِدَ شَہَادَۃَ ھٰذَا التَّحِقْیِق۔مِنْ کِتٰبِ اﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔(کرامات اصلادقین صفحہ ۸۶ تا ۸۹) ا ﷲ تعالیٰ کے عرش پر بیٹھنے اور آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کے متعلق آریوں نے بعض اعتراض کئے ہیں۔جن کے جواب حضرت خلیفۃ المسیح نے جو دئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔’’ پہلا سوال محض غلط فہمی اور علومِ الہٰیہ حقہ سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب اسی پر متفق ہیں۔ہاں تارکِ اسلام کو علومِ اسلامی سے نابینائی کی وجہ سے کرسی سے ٹھو کر لگی اور مُنہ کے بل جہالت کے گڑھے میں گرا ہے۔سنو ہماری مکرم کتاب صحیح بخاری میں جسے ہم کتاب اﷲ کے بعد اصح الکتب مانتے ہیں۔لکھاہے۔کُرْسِیُّہٗ:علمہ یعنی کرسی کے معنے علم کے ہیں۔معنے وَ سِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ( البقرۃ :۲۵۶) کے یہ ہوئے کہ اﷲ تعالیٰ کا علم تمام بلندیوں اور زمین کو وسیع و محیط ہو رہا ہے۔اب بتا, اس مسئلہ میں جو مذاہب اﷲ تعالیٰ کے ماننے والے ہیں اور صفاتِ الہٰیہ کے منکر نہیں۔ان میں کس کو کلام اور بحث ہے۔سوال دوم: میرے الزامی جواب کو اور سوال سوم کے الزامی جواب کے بعد حقیقی جواب کو ملاحظہ کرو۔تمہارے یجرویداکتیسویں ادھیائے میں لکھا ہے۔دیکھو نمبر۱ ’’اے منشو۔سب پرانیوں کی ہزاروں آنکھیں کے لئے ہے۔کیونکہ اس جگہ محل قابلات تجلیّات بہت ہوں گے۔وجہ یہ ہے کہ نفوس مطمئنہ جب اس عالم سے منقطع ہو کر عام ثانی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اپنی اپنی استعدادوں کے موافق ترقی کرتی ہیں تو ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالکیت ان کی قابلیتوں و ستعدادوں کے حساب پر جوش زن ہوں گے۔چنانچہ عارفوں کے کشوف اس امر کے گواہ ہیںـــ---- اگر تم ان لوگوں میں سے ہو جن کو قرآن کریم سے حصّہ ملا ہے تو ایسا بیان قرآن میں بہت پاؤگے۔نظرِ دقیق سے دیکھو تاکہ اس شہادت کی تحقیق کو قرآنِ کریم سے پالو۔