حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 196
وَ اِذَا انْفَکَّثِ الْاَرْوَاحُ الطَّیِّبَۃُ الْکَامِلَۃُ مِنَ الْاَبْدَانِ وَ یُتَّطَھَّرُوْنَ عَلٰی وَجْہِ الْکَمَالِ مِنَ الْاَوْسَاخِ وَ الْاَدْرَانِ یُعْرَضُوْن عَلَی اﷲِ تَحْتَ الْعَرْشِ بِوَاسِطَۃِ الْمَلٰئِکَۃِ فَیَاخُذُوْنَ بِطَوْرٍ جَدِیْدٍ حَظًّا مِّنْ رَبُوْبِیَّۃٍ یُّغَائِرُ رُبُوْبِیَّۃٍ سَابِقَۃً وَّ حَظًّا مِّنْ رَحْمَانِیَّۃٍ مُّغَائِرَ رَحْمَانِیَّۃٍ اُوْلٰی وَ حَظَّامِّنْ رَحِیْمِیَّۃٍ وَمَالِکِیَّۃٍ مُّغَائِرَ مَا کَانَ فِی الدُّنْیَا فَھُنَالِکَ تَکُوْنُ ثَمَانِیَ صِفَاٍت تَحْمِلُھَا ثَمَانِیَّۃٌ مِّنْ مَلٰٓئِکَۃِ اﷲِ بِاِذْنِ اَحْسَنِ الْخَالِقِیْنَ۔فَاِنَّ لِکُلِّ صِفَۃٍ مَّلَکٌ مُّؤَکَّلٌ قَدْ خُلِقَ لِتَوْزِیْعِ تِلْکَ الصِّفَۃِ عَلٰی وَجْہِ التَّدْبِیْرِ وَ وَضْعِھَا فِیْ مَحَلِّھَا وَ اِلَیْہِ اِشَارَۃٌ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی فَا الْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا۔قَتََدَبَّرْ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ۔وَ زِیَادَۃُ الْمَلٰٓئِکَۃِ الْحَامِلِیْنَ فِی الْاٰخِرَۃِ لِرِّیَادَۃِ تَجَلِّیَاتٍ رَّبَّانِیَّۃٍ وَّ رَحْمَانِیَّۃٍ وَّ رَحِیْمِیَّۃٍ وَّ مَا لِکِیَّۃٍ عِنْدَ زِیَادَۃِ الْقَوَابِل فَاِنَّ النُّفُوسَ الْمُطْمَئِنَّۃَ بَعْدَ الْقِطَاعِھَا وَ رُجُوْعِھَا اِلَی الْعَالَمِ الثَّانِیْ وَ الرَّبِّ جب ارواحِ پاکیزہ کاملہ بدنوں سے جُدا ہوتے اور بروجہ کمالِ روحانی میلوں کچیلوں سے پاک کئے جاتے ہیں۔تو اﷲ تعالیٰ کے حضور میں عرش کے نیچے بذریعہ ملائکہ کرام پیش کئے جاتے ہیں۔پس وہ جدید طور پر ربوبیتِ الہٰی سے حظ و حصّہ لیتے ہیں۔جو ربوبیتِ سابقہ سے علیحدہ و مغائر ہوتی ہے اور اس کی رحمانیت سے بھی بہرہ اندوز ہوتے ہیں اور حصّہ لیتے ہیں جو پہلی روحانیت سے مغائر ہوتا ہے۔اور اس کی رحیمیت سے بھی حصّہ پاتے ہیں جو اس کی پہلی رحیمیت سے الگ ہوتی ہے اور اس کی مالکیت سے بھی حصّہ پاتے ہیں جو دنیا کے حصّہ سے مغائر ہوتی ہے۔پس اس وقت آٹھ صفات ہو جاتے ہیں۔جن کے آٹھ ملائکۃ اﷲ باذن احسن الخالقین حامل ہیں کیونکہ ہر صفت کے لئے ایک فرشتہ مؤکّل ہے جو اس صفت کے پراگندہ کرنے کے لئے بروجہ تدبیر اور اس کو برمحل خود رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اسی کی طرف اﷲ تعالیٰ نے اپنی کلام میں اشارہ فرمایا ہے۔فَالْمُدَبِّرَاِت اَمْرًا پس تم غور کرو اور غافل نہ ہو۔آخرت میں ملائکہ حاملین کا زیادہ ہونا تجلّیاتِ ربّانیہ و رحمانیہ و رحیمیہ و مالکیہ کے زیادہ تجلّیات