حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 195
الْمُنَاسَبَاتِ الَّتِیْ بِیْنَھُمْ وَ بَیْنَ مَایَصِلُوْنَ اِلَیْہِ مِنَ النَّفُوْسِ کَنَفْسِ الْعَرْشِ وَ الْعُقُوْلِ الْمُجَرَّدَۃِ اِلٰی اَنْ یَّصِلُوْنَ اِلَی الْمَبْدَئِ الْاَوَّلِ وَ عِلَّۃِ الْعِلَلِ ثُمَّ اِذَا اعَاَنَ السَّالِکَ الجَذَبَاُت الْاِلٰھِیَّۃُ وَ النَّسِیْمُ الرَّحْمَانِیَّۃُ فَیَقْطَعُ کَثِیْرًا مِّنْ حُجُبِہٖ وَ یُنْجِیْہِ مِنْ بُعْدِالْمَقْصَدِ وَ کَثَرَۃِ عَقَبَاتِہٖ وَ اٰفَاتِہٖ وَیُنَوِّرُہٗ بِالنُّوْرِ الْاِلٰھِتِی وَ یُدْخِلُہٗ فِی الْوَاصِلِیْنَ۔فَیَکْمُلُ لَہُ الْوُصُوْلُ وَ الشُّھُوْدُ وَ مَعَ رُؤیَتِہٖ عَجَائِبَاتِ الْمَنَازِلِ وَالْمَقَامَاتِ وَ لَا شُعُوْرَ لِاَھْلِ الْعَقْلِ بِھٰذِہِ الْمَعَارِفِ وَ النِّکَاتِ وَ لَا مُدْخَلَ لِلْعَقْلِ فِیْہِ وَ الْاِطِّلَاعُ بِاَمْثَالِ ھٰذِہِ الْمَعَانِیْ اِنَّمَاھُوَ مِنْ مِشْکوٰۃِ النُّبُوَّۃِ وَ الْوَلَایَۃِ وَمَا شَمَّتِ الْعَقْلَ رَآئِحَتُہٗ َومَا کَانَ لِعَاقِلٍ اَنْ یَّضَعَ الْقَدَمَ فِیْ ھٰذَا الْمَوْضِعِ اِلَّا بِجَذْبَۃٍ مِنْ جَذَبَاتِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔نزدیک اس امر کو قریب کیا جائے۔اور یہ واسطہ و ذریعہ ہے۔وصولی فیضِ الہٰی اور تجلّی ئِ رحمانی میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کی طرف اور ملائکہ کی طرف سے رُسولوں کی طرف۔اور وحدتِ الہٰی میں کثرت قابلاتِ فیض قاوح نہیں بلکہ کثرت قوابل موجب برکات بنی آدم ہیں اور یہ امر ان کو قوت روحانی میں مدد دیتا ہے اور ان کو مجاہدات و ریاضتوں میں نصرت کرتا ہے جو مناسبات کے ظہور کے باعث ہوتے ہیں جو ان کے درمیان اور ان کے نفوس کے درمیان ہوتے ہیں۔جو ان تک پہنچتے ہیں اور نفسِ عرش اور عقولِ مجردہ کی طرح ہوتے ہیں حتٰی کہ وہ مبدء اوّل اور علّت العلل تک پہنچ جاتے ہیں۔جب سالک جذباتِ الہڈیہ اور نسیم رحمانیہ کو دیکھتا ہے تو بہت سے حجاب قطع کر جاتا ہے۔اور بعد مقصود و کثرتِ عقبات و آفات سے نجات پاتا اور نورِ الہٰی سے منوّر ہو جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیش اس کو واصلین میں داخل کر دیتا ہے۔اور اس کا وصول و شہود مع رویت عجائباتِ منازل و مقامات کے کامل ہو جاتا ہے۔اور اہلِ عقل کے لئے ان معارف و نکات کا شعور نہیں ہوتا اور نہگ عقل کا ان میں دخل ہو سکتا ہے اور اس قسم کے معانی پر اطلاع پانا مشکوٰۃِنبوّت و ولایت سے میسّر ہو سکتا ہے۔عقل کو ان حقائق سے بُو بھی نہیں پہنچتی۔اور نہ کسی عاقل کی طاقت ہے کہ وہ بجز جذباتِ الہٰی اس مقام میں قدم رکھے۔