حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 194

مَعْنٰی قَوْلِ اﷲِ تَعَالٰی وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَۃً۔فَاِنَّ الْمَلٰئِکَۃَ یِحْمِلُوْنَ صِفَاتًا فِیْھَا حَقِیَقَۃٌ عَرْشِیَّۃٌ وَ السِّرُّفِیْ ذٰلِکَ اَنَّ الْعَرْشَ لَیْسَ شَیْئًا مِّنْ اَشْیَآئِ الدُّنْیَا۔بَلْ ھُوَ بَرْزَخٌ بِیْنَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ مَبْدَئٌ قَدِیْمٌ لِّلتَّجَلِّیَاتِ الرَّبَّانِیَّۃِ وَ الرَّحْمَانِیَّۃِ وَالرَّحِیْمِیَّۃِ وَ الْمَالِکِیَّۃِ لِاِظْھَارِ التَّفَضّلَاتِ وَ تَکْمِیْلِ الْجَزَائِ وَالدِّیْنِ۔وَ ھُوَ دَاخِلٌ فِیْ صِفَاتِ اﷲِ تَعَالٰی فَاِنَّہٗ کَانَ ذَا الْعَرْشِ مِنْ قَدِیْمٍ وَّ لَمْ یَکُنْ مَّعَہٗ شَیْیئٌ فَکُنْ مِّنْ الْمُتَدَبِّرِیْنَ وَ حَقِیْقَۃُ الْعَرْشِ وَ اسْتِوَآئِ اﷲِ عَلَیْہِ سِرٌّ عَظِیْمٌ مِّنْ اَسْرَارِ اﷲِ تَعَالٰی وَ حِکْمَۃٌ بَالِغَۃ وَّ مَعْنًی رَّوْحَانِّی وَّ سُمِّیَ عَرْشًا لِّتَفْھِیْمِ عُقُوْلِ ھٰذَا الْعَالَمِ وَ لِتَقْرِیْبِ الْاَمْرِ اِلَٰی اسْتِعْدَادَاتِھِمْ وَ ھُوَ وَاسِطَۃٌ فِی وُصُوْلِ الْفَیْضِ الْاِلٰھِّی وَ الْتَّجَلِّی الرَّحْمَانِیِّ مِنْ حَضْرَۃِ الْحَقِّ اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ وَ مِنَ الْمَلٰئِکَۃِ اِلَی الرُّسُلِ وَ لَا یَقْدَحُ فِیْ وَحْدَتِہٖ تَعَالٰی تَکَثُّرُ قَوَابِلِ الْفَیْضِ بَلِ التَّکَثَّرُھٰھُنَا یُرْجِبُ الْبَرَکَاتِ لِبَنِیْ ٓ اٰدَمَ وَ یُعِیْنُھُمْ عَلَی الْقُوَّۃِ الرَّوْحَانِیَّۃِ وَ یَنْصُرُھُمْ فِی الْمُجَاھَدَاتِ وَ الرِّیَاضَاتِ الْمُوْْجِبَۃِ لِظُھُوْرِ وہ اہل آسمان و اہلِ زمین پر تقسیم کرتا ہے۔پس یہ معنے ہیں کلامِ الہٰی کے۔جو اس نے فرمایا ہے۔……… کیونکہ ملائکہ ان صفات کے حامل ہیں جن میں حقیقت عرشِ الہٰی ہے۔اور سرّاس بات کا یہ ہے کہ وہ عرشِ الہٰی چیز دنیا کی چیزوں میں سے نہیں ہے بلکہ وہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک برزخ ہے۔اور وہ مبدء قدیم ہے واسطے تجلیاتِ ربّانیہ و رحمانیہ و رحیمیہ و مالکیئہ کے واسطے ظاہر کرنے تفضّلات اور کامل کرنے جزاء و دین کے۔اور یہ بات صفاتِ الہٰی میں داخل ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ قدیم سے صاحبِ عرش ہے اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔خوب سوچ کرو اور حقیقتِ عرش اور استوٰی اﷲ تعالیٰ کے اسرار میں سے ایک عظیم الشان سرّ ہے اور بلیغ حکمت اور روحانی معنے ہیں۔اور عرش اس لئے نام رکھا گیا کہ اس عالم کے عقول کو سمجھایا جاوے اور ان کی فہمی استعدادوں کے