حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 193
ِیْھَا بَصِیْرٌ اِلَّا مَنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَمِیْنَ۔وَ ھٰذِہِ الصِّفَاتُ اَرْبَعٌ اِلٰی انْقِرَاض اِلنَّشْأَۃِ الدُّنْیَوِیَّۃِ ثُمَّ تَتَجَلّٰی مِنْ تَحْتِھَا اَرْبَعُ اُخْرَیَ الَّتِیْ مِنْ شَانِھَا اَنَّھَا لَا تَظْھَر اِلَّا فِی الْعَالَمِ الْاٰخِرِ وَ اَوَّلَ مَطَالِعِھَا عَرْشُ الرَّبِّ الْکَرِیْمِ الَّذِیْ لَمْ یَتَدَنَّسْ بِوُجُوْدِ غَیْرِ اﷲِ تَعَالٰی وَ صَارَ مَطْھَرًا تَآمًّا لِّاَنْوَارِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ قَوَآئِمُہٰ اَرْبَعٌ رَبُوْبِیَّۃٌ وَّ رَحْمَانِیَّۃٌ وَّ رَحِیْمِیَّۃِ وَّ مَالِکِیَّۃُ یَوْمِ الدِّیْنِ وَ لَا جَامِعَ لِھٰذِہِ الْاَرْبَعِ عَلٰی وَجْہِ الظِّلِّیَّۃِ اِلَّاعَرْشُ اﷲِ تَعَالٰی وَ قَلُبُ الْاِنْسَانِ الْکَامِلِ۔وَھٰذِہِ الصِّفَاتُ اُمَّھَاتٌ لّصِفَاتِ اﷲِ کُلِّھَا وَ وَقَعَتْ کَقَوَآئِمِ الْعَرْشِ الّذِی اسْتَوَی اﷲُ عَلَیْہِ وَ فِیْ لَفْظِ الْاِسْتِوَآئِ اِشَارَۃٌ اِلٰی ھٰذَا الْاِنْعِکَاسِ عَلَی الْوَجْہِ الْاَتَمْ الْاَکْمَلِ مِنَ اﷲِ الَّذِیْ ھُوَ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔وَ تَنْتَھِیْ کُلُّ قَآئِمَۃٍ مِنَ الْعَرْشِ اِلٰی مَلَکٍ ھُوَحَا مِلُھَا وَ مُدَبِّرُ اَمْرِھَا وَ مَوْرِدُ تَجَلِّیّٰتِھَا وَ قَاسِمُھَا عَلٰی اَھْلِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِیْنَ۔فَھٰذَا اور صفات مذکورہ کا چار میں حصر ہونابنظرِ عالم ہے جس میں ان صفات کے آثار پائے جاتے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ سارا عالم ان صفات کے وجود پر زبانِ حال سے گواہ ہے۔اور یہ صفات اس طرح متجلّی ہو رہے ہیں کہ کوئی بینا اس میں شک نہیں کرتا اور یہ چار صفات انقراض ایّام دنیا تک رہیں گی۔پھر ان کے نیچے چار اور صفات جلوہ گرہوں گی جن کی سان میں سے ہے کہ وہ صفات ظاہر نہیں ہوتیں مگر دوسرے عالم میں جو عرش الہٰی کا پہلا مطلع ہے اور وجود غیر اﷲ سے آلودہ نہیں ہوا اور انوار ربّ العالمین کا مظہر تام ہے۔اور عرشِ الہٰی کے چارپائے اس کی ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالکیت یوم الدین ہیں اور ان چاروں کا جامع بروجہ ظلّیت عرشِ الہٰی اور انسانِ کامل کا دل ہے۔یہ چار صفات ساری صفات الہٰی کے اُمَّات و اصول ہیں۔اور عرشِ الہٰی کے پایوں کی طرح واقع ہوئے ہیں جس پر اﷲ تعالیٰ کا اِستواء ہے۔اور لفظ اِستوٰی میں اس اَتَم و اَکمل عکسِ الہٰی کی طرف اشارہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور ہر پایہ عرش ایک فرشتے کی طرف منتہی ہوتا ہے جو اس کا حامل اس کا مدّبر اور اس کا موردِ تجلیات ہے اور اس صفت کو