حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 192 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 192

: اس دن اﷲ تعالیٰ کے عرش کے حامل آٹھ فرشتے ہوں گے۔کیا معنی۔اﷲ تعالیٰ کی چار صفات (۔۔۔) کی خاص تجلّی ہو گی۔اس آیت کی تفسیر حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی عربی کتاب ’’ کرامات الصادقین میں لکھی ہے جو اصل عبارت یہاں لکھی جاتی ہے اور نیچے اُس کے ترجمہ لکھا جاتا ہے۔ثُمَّ اعْلَمْ اَنَّ لِلّٰہِ تَعَالٰی صِفَاتٍ ذَاتِیَۃً نَاشِئَۃً مِّنِ اقْتِضَآئِ ذَاتِہٖ وَ عَلَیْھَا مَدَارُ الْعَالَمِیْنَ کُلِّھَا وَھِیَ اَرْبَعُ رَبُوْبِیَّۃٌ وَّ رَحْمَانِیَّۃٌ وَ رَّحَیْمِیَّۃٌ وَمَالِکِیَّۃٌ کَمَآ اَشَارَ اﷲُ تَعَالٰی اِلَیْھَا فِیْ ھٰذِہِ السَّوْرَۃِ وَ قَالَ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ماَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔فَھٰذِہِ الصِّفَاتُ الذَّاتِیَّۃُ سَابِقَۃٌ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ وَّ مُحِیْطَۃٌ لِکُلِّ شَیْیئٍ وَّ مِنْھَا وُجُودُ الْاَشْیَآئِ وَاِسْتِعْدَا دُھَا وَ قَابِلِیَّتُھَا وَ وَصُوْلُھَا اِلٰی کَمَالَاتِھَا وَ اَمَّا صِفَۃُ الْغَضَبِ فَلَیْسَتْ ذَاتِیَّۃٌ لِلّٰہِ تَعَالٰی بَلْ ھِیَ نَاشِئَۃٌ مِّنْ عَدَمِ قَابِلِیَّۃُ بَعْضِ الْاَعْیَانِ لِلْکَمالِ الْمُطْلَقِ۔رَکَذٰلِکَ صِفَۃُ الْاِضْلَالِ لَایَبْدُوْ اِلّابَعْدَ زَیْغِ الضَّآلِّیْنَ وَ اَمَّا حَصْرُ الصِّفَاتِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِی اِلْاَرْبَعِ فَنَظَراً عَلَی الْعَاِلَم الَّذِیْ یُوْجَدُ فِیْہِ اٰثَارُھَا۔اَلاَتَرٰی اَنَّ الْعَالَمَ کُلَّہٗ یَشْھَدُ عَلَی وُجُوْدِ ھٰذِہِ الصِّفَاتِ بِلِسَانِ الّْحَالِ وَ قَدْ تَجَلَّتْ ھٰذِہِ الصِّفَاتُ بِتَحْوٍلَّایَشُکُّ ترجمہ: واضح ہو کہ اﷲ تعالیٰ کے بعض ذاتی صفات ہیں جو اقتضائے ذات سے پیدا ہوتے ہیں۔اور اپنی صفاتِ کاملہ پر جملہ عالمیں کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ان صفات کی طرف اس سورہ شریفہ میں ارشارہ فرمایا ہے۔رب العالمین۔الرحمن۔الرحیم مالک یوم الدین۔یہ صفات ذاتیہ ہر چیز پر سابق ہیں اور ہر چیز کو محیط ہو رہے ہیں اور انہی سے اشیاء کاوجود اور اشیاء کی استعدادیں اور قابلیتیں تیار ہوتی ہیں اور ان کا وصول اپنے کمالات کو ہوتا ہے۔اور صفت غضب اﷲ تعالیٰ کی ذات میں نہیں ہے بلکہ یہ صفت بعض اعیان کی عدم قابلیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اور ایسا ہی صفت اضلال بھی ظاہر نہیں ہوتی مگر گمراہ ہونیوالوں کے کجَرو ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔