حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 190
اس کا بیٹا ایک ہوٹل میں ایسی کسمُپرسی کی حالت میں مارا کہ کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ کون تھا! : فرعون اور اس کی بستیوں کو اُلٹ کر پھینک دیا۔ایک میرے بڑے دوست شہزادہ تھے۔وہ بیچار ے خود کپڑا سی کر گزارہ کیا کرتے تھے۔اور ایک اور میرے دوست تھے۔وہ ان کو سینے کے لئے کپڑے لا دیا کرتے تھے۔اور خود لے آیا کرتے تھے۔انہوں نے ہی مجھے کہا کہ تو اس سے کپڑے سلوایا کرو۔خوددار بھی وہ ایسے تھے کہ کسی کو اس کی خبر تک ہونا گوارا نہیں کر سکتے تھے۔خود کبھی کسی سے کپڑا نہیں لیتے تھے۔اور اس عالم میں بھی ان کی مزاج سے وہ شاہانہ بُو دُور نہیں ہوئی تھی خمرے رکھا کرتے تھے! کوئی اپنے حُسن پر مغرور ہے۔کوئی اپنے علم پر اتراتا ہے۔کوئی اپنی طبّ پر اکڑتا ہے۔حالانکہ یہ سب غلط ہے۔جب تک خدا کا فضل نہ ہو۔کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔سچ مچ یہ بات ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔خدا رحم کرے میری ماں پر۔وہ کہا کرتی تھی کہ جو آگ کھائے گا وہ انگارے ہگے گا! ثمود نے ہمارے رسولوں کا انکار کیا۔ہم نے بھی ایسا پکڑا کہ کہیں نہ جانے دیا۔جانتے ہو کہ نوحؑ کی قوم کو کس طرح غرق کیا۔تم کو چاہیئے تھا کہ اس سے عبرت حاصل کرتے۔دارالسلام ۱؎ میں سولہ لاکھ آدمی قتل کر دئے وہ جو بادشاہ تھا۔اس نے اپنی بیوی کا نام ’’نسیمِ سحر‘‘ رکھا ہوا تھا۔جس طرح صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے آدمی کو نیند آتی ہے۔اسی طرح اس کو اپنی بیوی کی صحبت خوشگوار معلوم ہوتی تھی۔جب اس ’’نسیمِ سحر‘‘کو قتل کیا توا سکی گلی کے کُتّے ہی چاٹتے تھے۔کسی نے کفن تک بھی نہ دیا۔جب بادشاہ نے قید میں پانی مانگا تو فاتح بادشاہ نے سپاہ کو حکم دیا۔کہ اس کے محل میں سے تمام لعل و جواہرات لُوٹ لا۔وہ وحشی لوگ فوراً گئے اور تمام محل کی آرائش کو لوٹ کھسوٹ لائے تو اس کے سامنے ایک تھالی میں نہایت قیمتی جواہرات بھر کر بادشاہ بغداد کے سامنے پیش کئے گئے کہ لو ان کو پیٔو اور پھر گالی دے کر کہا کہ بدذات! تو فوج کو تنخواہ نہ دیتا تھا۔اور تیرے گھر میں اس قدر مال تھا۔یہ کہہ کر اس کا سر اڑا دیا گیا! تم اپنی جان پر رحم کرو۔یاد رکھو کہ کسی کا حُسن نہ کام آئے گا اور نہ کسی کا مال کام آئے گا۔نہ جاہ و جلال۔نہ علم۔نہ ہنر۔(البدر حصّہ دوم کلام امیر ۷؍نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۵۸۔۵۹) ۱۱ تا ۱۳۔۔ ۔۱؎ بغداد۔مرتّب