حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 189
سے ڈرو کہ کہیں تمہارا بھی وہی حال نہ ہو۔قارعۃ: ٹھونگ کر سمجھانے والی۔بالطاغیۃ: بہ سبب حد سے بڑھی ہوئی نافرمانی کے وہ ہلاک ہوئے۔عاتیہ: قابو سے نکلنے والی۔حد سے بڑھی ہوئی۔مُؤْتَفِکٰت: جن پر پہاڑ گرا تھا۔سڈوم و کمارا کے لوگ۔: ان کی خطاکاریوں کے سبب۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) سارا جہان یہاں تک کہ درخت بھی قانونِ الہٰی کے سب پابندہیں۔گائے۔بھینس۔بیل۔بکری وغیرہ کو دیکھو کہ وہ گھاس کو جھٹ جھٹ اپنیی دانتوں سے کاٹ کر نگل جاتے ہیں۔پھر آرام سے بیئٹھ کر اس کو اپنے پیت سے نکال کر چباتے اور پھر نگلتے ہیں۔اور اسی طرح سے وہ جگالی کرتے ہیں اور اسی طرح آرام کر کے پیشاب اور گوبر کرتے ہیں۔یہ ان کے ساتھ ایک سنّت ہے۔اگر اس کے خلاف کوئی جانور کھاتا ہی چلا جائے اور جگالی اور آرام وغیرہ بالکل نہ کرے تو وہ بہت جلد ہلاک ہو جاتے گا۔اسی طرح بچوں کی حالت ہے۔اگر بچّہ اور بچے کی ماں کوئی بدپرہیزی کریں تو دونوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص کھانا کھانے کی بجائے روٹی کانوں میں ٹھونسنے لگے تو کیا وہ بچ جائے گا۔اسی طرح بہت سے قانون ہیں جو ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔وہ ذلیل ہو جاتے ہیں۔جھوٹے جھوٹ بولتے ہیں مگر ایک زمانہ کے بعد اگر وہ کبھی سچ بھی بولیں۔تب بھی کوئی ان کا اعتبار نہیں کرتا۔یہاں تک کہ اگر وہ قسمیں کھا کر بھی کوئی بات کہیں تو تب بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔اسی طرح سُست آدمی اپنی آبائی جائیداد تک بھی فروخت کر کے کھا جاتا ہے۔: تم جانتے ہو کہ ہونے والی باتیں ہو کر رہتی ہیں اور کسی طرح ہو کر رہتی ہیں۔مثل کی طرح سُنو۔۔جن لوگوں نے حق کی مخالفت کی۔ان کو خدا نے ہلاک کر دیا۔ثمود قوم نے تکذیب کی۔اس کا انجام کیا ہوا۔ہمارے ملک میں سلاطین مغل پٹھان۔سکھ وغیرہ تھے۔جب انہوں نے نافرمای کی تو خدا نے ان کوٹھونک ٹھونک کر ٹھیک کر دیا۔پیارو! اگر تم بدی کرو گے تو تم کو بدی کا ضرور نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا۔یاد رکھو۔بدی کے بدلہ میں کچھ سُکھ نہیں مل سکتا۔عاد قوم بڑی زبردست قوم تھی۔اس کو اﷲ تعالیٰ نے ہوا سے تباہ کیا۔سات رات اور آٹھ دن متواتر ہوا چلی۔سب کا نام و نشان تک اڑا دیا۔بڑے بڑے عمائدِ قوم گرے۔جس طرح کھو کھلا درخت ہوا سے گر جاتا ہے۔بتاؤ تو سہی۔اب کہاں ہے۔رنجیت سنگھ اور ان کی اولاد؟ ان کی بیٹے پوتے اور پڑپوتے؟