حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 184

’’پس نہ کر سکیں گے‘‘اور اعتراض میں کذّب نے لکھا ہے’’ تب تم سجدہ میں گرو گے‘‘ آریہ صاحبان! انصاف کرو اور سچ کے اختیار کرنے میں دیر نہ کرو۔وَالْعُاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ( اب میں آپ کو اس آیت کی بقدرِ ضرورت تشریح سناتا ہوں اور آیت کا مابعد بھی ساتھ ہی بیان کرتا ہوں ۔ ۔جس وقت سخت اضطراب کا وقت اہو گا۔اور سجدہ کی طر ف بلائے جائیں گے۔پس ان کو سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو گی۔اُن کی آنکھیں ( مارے ضعف و دہشت) کے بے نور ہو گئی ہوں گی۔ذلّت نے انہیں ڈھانک رکھا ہو گا۔اور ( اس حالت سے پہلے) جب بھلے چنگے تھے۔سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے۔السّاق: عربی میں شدّت اور تکلیف کو کہتے ہیں اور کشف السَّاق شدّت اور تکلیف کا ظہور ہے۔پسکے معنے ہوئے۔جب شدّت اور تکلیف کا ظہور ہو گا ان معنوں کا ثبوت علاوہ لغتِ عرب کے قرآنِ کریم سے دیا جاتا ہے۔کَلَّا ٓ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ۔وَ قِیْلَ مَنْ رَاقٍ۔وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ۔وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقُ۔اِلٰی رَبِّّکَ یَوْمَئِذٍ نِ ا لمساق۔( الدھر:۲۷تا۳۱) ایسا نہ ہو گا۔جس وقت سانس ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے۔کون افسوس کرنے والا ہے ( جو اسے اب بچا لے) اور ( مریض ) یقین کرتا ہے کہ اب جدائی کا وقت ہے اور سخت گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے۔اس وقت چلنا تیرے رب کی طرف ہے راجز عرب کے نامی شاعر کا قول ہے۔عَجِبْتُ مِنْ نَّفْسِیْ وَ مِنْ اِشْفَاقِیْ وَ مِنْ طَرَّادِی الطَّیْرِ عَنْ اَرْزَقِھَا فِیْ سَنَۃٍ قَدْ کَشَفَتْ عَنْ سَاقِھَا! ’’تعجّب ہے کہ قحط کے دنوں میں جب شدّت سے اضطراب واقع ہوا۔مَیں بھوکوں مرنے کے خوف سے پرندوں کو ان کی روزی کھانے سے روکتا تھا۔‘‘ اور جب جنگ کی شدّت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کَشَفَتْ الْحَرْبُ عَنْ سَاقٍیعنی گھمسان کا رَن واقع ہوا۔اب اس تحقیق پر آیت شریف کا یہ مطلب ہوا کہ جب عبادت کے کمزور کو مرضِ موت کی شدّت انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے اور بڑا بوڑھا یا ناتواں زار و نزار ہو جاتا ہے اور ۱؎ اس وقت اﷲ تعالیٰ ۱؎ ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء)