حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 179

وہ چاہتے ہیں کہ تُو اُن سے چکنی چپڑی باتیں کرے اور وہ بھی تیرے ساتھ ایسی ہی باتیں کریں اور اپنے مذہب پر پکّے رہیں۔حق کے منکریں ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ مذہب کے معاملہ میں ان کے ساتھ گفتگو نہ کیا جائے اور جو عیب ان میں ہے وہ کبھی ان کو نہ جتلایا جائے اور باہمی میل جول ہوتا رہے۔یہ بات خداوند تعالیٰ کو پسند نہیں۔ان آیات میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ عمائدِ قریش جمع ہو کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپس میں صلح جوئی اختیار کریں اور اس کی راہ یہ ہے کہ اگر آپ کو مال و دولت کی خواہش ہے تو ہم بہت سامال جمع کر دیتے ہیں اور اگر عیش و عشرت مقصود ہے تو عمدہ سے عمدہ کنواری لڑکیاں آپؐ کے لئے بہم پہنچا دیویں۔غرض ہر طرح سے لالچ دیا گیا مگر آپؐ نے فرمایا کہ میں ان اشیاء میں سے کسی کا بھی آرزومند نہیں ہوں۔میں تو صرف تمہاری بہتری چاہتا ہوں تاکہ تم ہلاک ہونے سے بچ جاؤ۔مروی ہے کہ وہ لوگ جو ایسا پیغام لائے تھے ان کے نام یہ ہیں۔ولیدؔ بن مغیرہ ابوجہلؔ، اسود ؔ بن عبدیغوث اور اخنسؔ بن شریق۔مدارات جائز ہے۔مداہنہ جائز نہیں۔امام غالی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ مدارات اور مداہنہ میں باریک سافرق ہے۔مدارات اس کو کہتے ہیں کہ اپنے دین کی سلامتی اور حفاظت کے واسطے چشم پوشی کی جائے یا اس چشم پوشی میں اپنے بھائی مسلمان کی اصلاح مدّ نظر رکھی جائے اور مداہنہ وہ ہے کہ اپنے حظِّ۔خواہشِ نفسانی اور سلامتی جاہ کے لئے چشم پوشی کی جاوے۔۱۱۔۔: جھوٹی قسمیں کھانے والا۔جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔کہ بات بات پر واﷲ۔باﷲ۔کہتے رہتے ہیں۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کا نام بے فائدہ لیتے ہیں۔اور (البقرۃ: ۲۲۵) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں۔: قلیل الفہم۔پست ہمت۔سست رائے۔خفیف العقل۔۱۲۔۔: طعنہ دینے والا۔لوگوں کی برائیاں بیان کرنے والا۔