حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 178
مخصوص تھیں۔ان تمام اَخلاقِ متفرقہ کو اپنی ذات میں جمع کر لے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۱ء) حدیث میں آیا ہے اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمِ الْاَخْلَاقِ میری بعثت اس غرض کے واسطے ہے کہ تمام اَخلاقِ حسنہ کو اپنے کمال تک پہنچا دوں۔اسی پر شاعر نے کہا ہے ؎ حُسنِ یوسف دمِ عیسٰی یدِ بیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَ۔بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ: یہ پیشگوئی ہے کہ لاے نبیؐ وہ زمانہ قریب ہے جبکہ تو بھی دیکھ لے گا۔اور یہ تیرے مخالف بھی دیکھ لیں گے کہ کسی کی بات سچی نکلتی ہے۔اور کون مجنون ثابت ہوتا ہے۔فتح مکّہ نے بہت جلد کفّار پر ثابت کر دیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے جو فرمایا تھا وہی سچ اور حق تھا۔مجنون اسباب صحیحہ کے مہیاء نہ کر سکنے کے سبب ناکام رہتا ہے۔انبیاء ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۸۔۔اﷲ تعالیٰ ناکامیابی اور کامیابی اندھا دھند نہیں دیا کرتا بلکہ مومن کو کامیاب کرتا ہے اور منکر کو ناکامی حاصل ہوتی ہے۔۹۔۔مکذّبین کا کہنا نہ مانو۔مباحثہ کے وقت مخالف کے مقدّمات کو مان نہیں لینا چاہیئے۔بلکہ مخالف جو باتیں پیش کرتا ہے وہ غالب دعاوی ہی ہوتے ہیں چکّر دے کر ان سے دلائل پوچھنے چاہئیں۔۱۰۔۔