حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 177
اس میں اہل عرب کو اور آئندہ تاریخِ زمانہ پر نگاہ کرنے والوں کو سمجھایا ہے۔کہ دیکھو ہمارا۔رسول بھی ایک کام کر رہا ہے اور اس کے بالمقابل تم بھی ایک کام کر رہے ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مکّہ کو کون فتح کرتا ہے اور غیر منقطع اجر کس کو ملتا ہے۔کون عاقل ثابت ہوتا ہے اور کون دیوانہ۔ایک اور دلیل آنحضرت صلی اﷲ علیہ واآلہٖ وسلم کے پاگل نہ ہونے کی اس جگہ بیان فرمائی ہے۔فرمایا جو شخص خلقِ عظیم اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کو پاگل کس طرح کہہ سکتے ہیں۔پاگل کے اخلاق اچھے نہیں ہوا کرتے۔کیا وہ شخص جو عاقبت اندیشی۔شجاعت۔مروّت۔جودوسخا۔استقامت۔بلندہمتی۔عفّت حیا۔زُہد۔اتّقا۔ریاضت۔فصاحت۔بلاغت۔عفو۔کرم۔رحم۔حلم۔توکل۔امانت۔دیانت۔غرض تمام اخلاقِ فاضلہ کا سرچشمہ ہو۔کیا وہ مجنون ہو سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔یاد رکھنا چاہیئے کہ خلق نرمی۔حلیمی اور انکسار کا نام نہیں۔جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے۔بلکہ انسان کے اندر بمقابلہ ظاہری قوٰی کے جو باطنی کمالات کی کیفیات ہیں۔ان سب کا نام خُلق ہے۔اور آنحضرت صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم میں وہ سب پائی جاتی تھیں۔اسی پر قرآن شریف میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔(الاحزاب:۲۲) کہ اخلاق کے واسطے کامل رسول کامل نمونہ ہے۔اس کی سنّت کو اختیار کرو۔حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے خُلق کے متعلق سوال ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا۔خُلُقُہُ الْقُراٰنُآپؐ کا خُلق قرآن تھا۔قرآن مجید میں جو اعلیٰ تعلیم دی گئی ہے اس سارے کے عمل کا آپؐ نمونہ تھے۔جو لوگ رسولِ خدا صلّی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی سوانح عمریاں تلاش کرتے ہیں۔انہیں چاہیئے کہ جناب صدیقہ کے اس قول کی طرف توجہ کریں۔دنیاداروں کی ہمیشہ عادت چلی آتی ہے کہ خدا کے محبوب مجذوب لوگوں کا نام دیوانہ رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب سلطان روم کو اس کے اراکین کی خراب حالت کی طرف توجہ دلائی تو آپؐ کو بھی کہا گیا کہ تو مجنون ہے۔جس پر انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور میں عرض کی ؎ آنکس کہ بتو رسد شہاں راچہ کند بافِرّ توفِرّ خُسرواں چہ کند چوں بندہ شناختت بداں عزّو جلال بعد از جلال دیگراں راچہ کند دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانۂ تو ہر دوہاں راچہ کند اسی خُلق عظیم کی طرف اشارہ ہے۔جہاں گزشتہ انبیاء کا ذکر کر کے آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کو حکم ہوا ہے۔( انعام :۹۱) انبیاء سابقین میں جو خاص باتیں منفرد طور پر