حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 14

ہے۔استعمال ہوا ہے۔چنانچہ رِبِّیْ بڑے بڑے کاہنوں اور عالموں پر بولا جاتا ہے۔اور بعض جگہ جب کسی اسم کے ساتھ ترکیب میں مذکور ہوتا ہے۔جیسے مثلاً اسی جگہ ربّ العزّۃ یا ربّ البیت یا ربّ المنزل اُس وقت مراد ف لفظ صاحب کے ہوا کرتا ہے۔مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں۔صاحب العزّۃ صاحب البیت۔صاحب المنزل۔عزّت والا۔گھر والا۔منزل والا یا مالکِ منزل۔جواب نمبر۲۔اور عزّت بمعنی جمیّت، ضدجاہلیت ہے۔دیکھو قرآن میں ایک جگہ اس کا استعمال ہوا ہے۔اَخَذَتْہُ الْعِذَّۃُ بِالّاِثْمِ فَحَسْبُۂ جَھَنَّمَ: یعنی جب اُسے خدا سے ڈرنے کو کہا جاتا ہے تو اُسے عزّت(ضد و حمیت جاہلانہ) گناہ پر آمادہ کرتی ہے۔پس ایسے کیلئے جہنم ہے۔اور عزیزؔ کا لفظ جو اس سے مشتق ہوا ہے قرآن میں ( سورۃ دخان: ۵۰) شریر جہنمی پر جب جہنم میں ڈالا جائیگا بولا گیا ہے۔ذُقْ۔اِنّکَ اَنْتَ الْعَزِیَذُ الْکَریْمُ۔چکھ کیونکہ تو بڑی حمیّت والا اور بزرگ بنا بیٹھا تھا۔اور عزیزؔ اور ربّالعزّۃؔ کے معنی ایک ہی ہیں۔ربّ الْعِذَّۃ اُس شخص سے مراد ہے۔جو دنیا میں متکبّر اور جبار اور بڑا ضدی کہلاتا ہے۔اسی حدیث کی بعض روایات میں آیا ہے۔حَتّٰی یَضَعَ فِیْھَا الْجَبَّارُ قَدَمَہٗ۔جَبَّار اور رَبّ الْعِزَّۃ کے ایک ہی معنے ہیں۔یعنی متکبّر سرکش حدود سے نکل جانے والا۔پس گویا دونوں روایتیں علیٰ اختلافِ الفاظ معنی واحد رکھتی ہیں۔اب حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ دوزخ زیادہ طلبی کرتی رہے گی جب تک شریر متکبر اپنے تئیں عزیز جاننے والے اس میں اپنا پاؤں رکھیں یعنی داخل ہوں۔یاد رہے کہ اہل اسلام کے اعتقاد میںدوزخ شریروں اور بد ذاتوں کی جگہ ہے۔جیسا حدیث ذیل میں مذکور ہے۔مشکوٰۃ صفحہ ۴۹۶۔ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ دوزخ میں ایک وادی ہے اس کا نام ھَب ھَب ہے اس کی تسکین کا باعث ہر ایک جبّار ہو گا۔اس کے آخری جملے کے الفاظ یہ ہیں یُسَکِّنُہٗ کُلُّ جَبَّارٍ۔جواب نمبر ۳۔بعض روایات میں اگر آیا ہے۔حَتّٰی یَضَعُ فِیْھَا رَبُّ الْعِزّۃِ َقَدَمہ۔اوّل تو یہ روایت حدیث کے اعلیٰ طبقہ کی روایت نہیں کیونکہ اس میں روایت بالمعنٰی کا احتمال ہے۔اگر مان بھی لیا جاوے۔قدمؔ سے مراداشرارہیں۔پاؤں نہیں۔دیکھو۔قاموس اللغۃ مَدَمَہٗ ای الَّذِیْنَ قَدَمُھُمْ مِنَ الْاَشْرَارِ۔فَھُمْ قَدَمُ اﷲِ لِلنَّار کَمَا اَنَّ الْخِیَارَ قَدَمُہٗ لِلْجَنَّۃِ یعنی قدم سے مراد وہ شریر لوگ ہیں جن کو خدا نے دوزخ کے آگے دھر دیا۔پس وہ لوگ خدا کے طرف سے آگ کے لئے آگے آگے کئے گئے جیسے اچھے لوگ خدا ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ کی طرف سے جنّت کی جانب آگے کئے گئے۔پس حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ دوزخ