حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 175
نکالے۔ہوا۔سمندر۔روشنی پر حکومت کرتا ہے۔باوجود اس کے کمال کے کسی اور کے نمونہ کو اختیار کرنا چاہتا ہے۔تاجر۔کسی بڑے تاجر۔اور سپاہی کسی بڑے کمان افسر کی طرح بننا چاہتا ہے۔راولپنڈی کے ایک دربار میں پر نس آف ویلز ۱؎ کی شان و شوکت دیکھ کر ایک احمق نے مضمون لکھا کہ کاش میں ہی پرنس ہوتا! ایک میرا دوست مرض جذام میں گرفتار یہاں آیا۔مجھے کہنے لگا۔آپ عقلمند نہیں معلوم ہوتے۔آپ مجھے اجازت دیں۔میں کوشش کروں۔فوراً آپ کو زمین کے بڑے مربعے دلا سکتا ہوں۔آپ بادشاہ بن جائیں گے! مَیں نے اسے کہا کہ تم نہیں جانتے۔خوشی اَور شَے ہے۔تم مجھے زمین دلواتے ہو۔خود تو بڑے زمیندار ہو۔مگر دیکھو۔تم میں ایسی بیماری ہے کہ تمہارے رشتہ دار بھی تم سے نفرت کرتے ہیں۔پھر وہ زمین کس کا م؟ غرض ہر شخص کسی نمونہ کو سمجھ نے کا خواہشمند ہے۔کوئی حسن و جمال کا شیدا۔کوئی ناموری چاہتا ہے۔کوئی حکومت کو پسند کرتا ہے۔کوئی کسی اور بڑائی کا حریص ہے۔اس واسطے اﷲ تعالیٰ ان کے واسطے ایک نمونہ پیش کرتا ہے۔د وات اور قلم ہو۔اور اس سے جو کچھ لکھا جا سکتا ہے۔سیاسی لوگ سیاست پر کتب لکھتے ،ناولسٹ ناول لکھتے اور مختلف لکھنے والے مختلف اشیاء پر لکھتے اور ان کی تحریریں جمع کرو۔یہ ثابت ہو گا کہ محمدؐ رسول مجنون نہیں تھا۔اس نے جو کچھ خلقت کے سامنے پیش کیا۔وہ حق و حکمت سے پُر۔اور اس نے جو تحریر پیش کی ہے اس کا مقابلہ کوئی تحریر دنیا بھر کی نہیں کر سکتی۔تمام تعلیمات جن پر عمل کر کے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔وہ سب اس کتاب میں جمع ہیں۔دلیل یہ ہے کہ مجنون کے نہ رونے کی کسی کو پرواہ ہے نہ اس کے ہنسنے کی کسی کو خواہش ہے۔اس کی طاقت کی قدر نہیں ہو سکتی وہ سارا دن سوئے۔جاگے۔بیٹھے۔سردی میں ننگا۔گرمی میں لحاف لے۔اس کی محنت کا بدلہ نہیں۔لیکن اے نبی! تیری محنتوں کا ثمرہ غیر ممنون ہے۔اس کا خاتمہ نہیں۔ہم نے خود تجربہ کیا ہے۔آنحضرتؐ کے ہر کام کا پھل ہمیشہ قائم ہے۔پھر مجنون کے اخلاق نہیں ہوتے۔وہ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا لیتا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بڑے اخلاق اعلیٰ رکھتے تھے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قرآن لائف آف محمدؐ ہے۔خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ۔پھر فرمایا۔دیکھو اے مخالفو! اس کے مقابلہ میں کسی کا زور نہ چلے گا۔یہ بھی دیکھے گا اور تم بھی دیکھو گے کہ کون فتح مند ہوتا ہے۔عرب اور عجم کوئی اس کے بالمقابل کامیاب نہ ہو سکے گا۔یہ اس کی صداقت کی دلیل ہے۔اگر تم کوئی نمونہ اعلیٰ چاہتے ہو اور وعدۂ خداوندی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ علم کے لئے قرآن شریف اور عملی زندگی کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا عملدر آمد بس ہے… ۱؎ بعدہٗ جارج پنجم۔مرتب