حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 168
نے کہا کہ اگر وہ ستارے نظر آتے ہیں۔جن سے تم لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہو تو جہان خراب نہیں ہو گا۔یہ ابن ابی کبثہ ( ہمارے نبی کریمؐ کی طرف اشارہ کرتا ہے) کے ظہور کا نشان ہے۔ابن کثیر میں ہے اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ کے نیچے ہی ابن جریر کہتا ہے۔اس آیت کے نیچے کہ آسمان کی حفاظت دو باتوں کے وقت ہوتی ہے۔یا عذاب کے وقت جب ارادۂ الہٰی ہو کہ زمین پر اچانک عذاب آ جاوے یا کسی مصلح راہ نما نبی کے وقت۔اور یہی معنے ہیں اس آیتِ شریفہ کے۔ ۔(الجن:۱۱) یعنی ستاروں کے گرنے کو دیکھ کر وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ آیا زمین والوں کے لئے تباہی کا ارادہ کیا گیا ہے۔یا ان کے ربّ نے انہیں کوئی فائدہ پہنچانا ہے۔خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ مصلح کے تولّد۔ظہور اور اس کی فتحمندی پر حزب الرحمان اور حزب الشیطان کی جنگ پہلے اوپر ہوتی ہے۔پھر زمین پر۔آیت کریمہ(النازعات:۶)اور(الذّٰریات:۵) اور آیت ( الطارق:۵) کے نیچے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب نے مفصّل لکھا ہے کہ فرشتے بروج پر اثر ڈالتے ہیں اور ان سے ایک اثر ہوا اور دیگر اشیاء پر پڑتا ہے۔اور ملائکہ کا اثر شہب میں بھی نفوذ کرتا ہے۔۲۸؍ نومبر ۱۸۸۵ء میں ۲۷ اور ۲۸ نومبر کی درمیانی رات میں غیر معمولی کثرت سے شہب گرے تو اس وقت ہمارے امام ہمام علیہ السلام کو اس نظارہ پر یہ وحی بکثرت ہوئی۔( دیکھو صفحہ ۲۳۸ براہین احمدیّہ) یَا اَحْمَدُ بَارَکَ اﷲُ فِیْکَ۔مَارَمَیْتَ اِذْرَمَیْتَ وَ لَکِنَّ اﷲَ رَمٰی اور اسی کے بعد دُمدار ذوالسنین نظر آیا اور ۱۸۷۲ء کی رمی شہب غیر معمولی تھی۔۔پس یہ اور کل کواکب زینتِ سماء الدنیا ہیں اور روحانی عجائبات کی علامات ہیں اور نیز ان سے راہ نمائی حاصل ہوتی ہے۔یہی تین فائدے بخاری صاحب نے اپنی صحیح میں بیان فرمائے ہیں۔اب اس سوال کا جواب ختم کرتے ہیں۔مگر قبل اس کے کہ ختم کرتے ہیں۔مگر قبل اس کے کہ ختم کریں۔آیات ذیل کا بیان بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔۔۔ (الشعراء:۲۱۱ تا ۲۱۳) ۔(الشعراء:۲۲۳) اﷲ سے دُور ہلاک ہونیوالی خبیث روحوں کے ذریعہ یہ کلامِ الہٰی نازل نہیں ہوا۔اور ان کے مناسب