حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 167
بتاؤکہ آریو۔کیا تمہارا کام تھا کہ تم انکار کرتے۔۱۔۔ ۔۔(الحجر:۱۷ تا ۱۹) ضرور ہم نے ہی بنائے آسمان میں روشن اجرام۔اور خوبصورت بنایا انہیں دیکھنے والوں کے لئے اور محفوظ رکھا ہم نے انہیں ہر ایک خدا سے دور یا ہلاک شوندہ۔تُکّہ باز یا مردُود سے۔ہاں اگر کوئی چھپ کر سننا چاہے تو اس کے پیچھے لگتے ہیں۔شہابِ ثاقب۔مٹی ارز۔الکایات۔۲۔۔ ۔ ۔۔(الصّٰفّٰت:۷ تا ۱۰) ترجمہ : ہم ہی نے خوش نما بنایا اس ورلے آسمان کو کواکب کی زینت سے اور محفوظ کر دیا ہم نے اسے ہر ایک خدا سے دُور یا ہلاک ہونے والے متکبّر صدّی سے۔ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر جانب سے دھکیلے جاتے ہیں۔دھتکارے جاتے اور ان کے لئے دائمی دُکھ دینے والا عذاب ہے۔ہاں اگر کوئی جہٹی مارے تو اس کے پیچھے لگتے ہیں شہابِ ثاقب۔میٹی ارز۔الکایات۔۳۔ ۔(الملک: ۶) ہم ہی نے مزیّن کیا اس والے آسمان کو روشن چراغوں سے اور کر دیا ہم نے انہیں مارشیاطین کے لئے اور تیار کر دیا ہم نے ان کے لئے جلنے کا عذاب۔۴۔ (الجّن: ۱۰) تحقیق ہم بیٹھتے تھے۔بیٹھنے کی جگہوں میں سننے کے لئے۔پس اب اگر کوئی بات سننا چاہے۔پاتا ہے اپنے لئے شہاب انتظار میں۔تم ہندیوں اور عام یورپ والوں سے تو طائف کے عرب نمبردارہی اچھے نکلے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریمؐ کے عہد ۶۱۰ء سعادت مہد میں میٹی ارز غیر معمولی بکثرت نظر آئے تو عام طور پر لوگوں نے خیال کیا کہ آسمان تباہ ہو چلا۔اس لئے لگے اپنے مویشیوں کو ذبح کرتے۔تب ان کے نمبردارعبدیالیل