حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 165
اس جنگ اور اولیاء اﷲ کی کامیابی کے متعلق جسے دیو۔اسر۔سنگرام کہتے ہیں۔ہم نے اس رسالہ میں بہت جگہ تذکرہ کیا ہے۔چوتھا امر: قابلِ بیان یہ ہے کہ وسائل و وسائط کو تمام دنیا کے مذاہب ضروری تسلیم کرتے ہیں۔کافر و مومن۔جاہل و عالم۔بت پرست و خدا پرست۔سوفسطائی۔دہریّہ۔جناب الہٰی کا معتقد۔غرض سب کے سب وسائل و وسائط کو عملاً مانتے ہیں۔کون ہے جو بھوک کے وقت کھانا۔پیاس کے وقت پینا۔سردی کے وقت کوئی دوائی یا گرمی حاصل کرنے کا زریعہ اختیار نہیں کرتا۔مقامِ مطلوب پر جلدی پہنچنے کے لئے میل ٹرین یاسٹیمر کو پسند نہیں کرتا۔اگر مومن صرف حضرت حق سبحانہ، کی مخلصانہ عبادت کرتا اور شرک اور بدعت اور اَھواء سے پرہیز کرتا ہے۔تو غرض اس کی اسے ذریعہ قربِ الہٰی بنانا ہوتا ہے۔اور بُت پرست اگرچہ حماقت سے بُت پرست ہے مگر کہتا وہ بھی یہی ہے کہ( الزمر:۴) ہم تو ان کو خدا کے قُرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔اگرچہ یہ ان کا کہنا اور اس کا عمل در آمد غلط ہی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب صحیحہ بھی ہوتے ہیں اور ایسے اسباب بھی ہیں جن کا مہیّا کرنا مومن کا کام ہے اور ایسے بھی جن کا مہیّا کرنا عام عقلمندوں اور دانا,ں کا حصّہہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب ماننا باعثِ شرک ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب خیال کرنا جہالت اور وہم اور حماقت ہے۔تعجب انگیز بات ہے کہ بہت سے فلاسفر۔سائنس دان اور حکماء عللِ مادیہ اور اسبابِ عادیہ پر بحث کرتے کرتے ہزارہانکاتِ عجیبہ اور دنیوی امور میں راحت بخش نتائج پر پہنچ جاتے ہیں۔مگر روحانی ثمرات پر ہنسی ٹھٹھے کر جاتے ہیں۔جنوب شمال کو قطب اور قطب نما کی تحقیق میں اور اس پر مشرق و مغرب کو چھان مارا ہے اور سورج اور چاند کی کرنوں سے اور روشنیوں سے بے شمار مزے لُوٹے ہیں۔لیکن اگر کسی کو انہیں نظاموں سے ہستی باری تعالیٰ پر بحث کرتا دیکھ لیں تو اس کے لئے مذہبی جنون اور اس کو مجنون قرار دیتے ہیں۔کیسا بے نظیر نظارہ ہے جس کو ایک اسلام کا حکیم نظم کرتا ہے ؎ اشقیاء درکارِ عقبیٰ جبری اند اولیاء درکار دنیا جبری اند علمِ ہندسہ جس کی بناء پر آج انجینئرنگ اور اسٹرانومی معراج پر پہنچ گئی ہے۔سوچ لو۔کیسے فرضی امور سطح مستوی اور نقطہ سے جس کو سیاہی سے بناتے ہیں اور قلم کے خط سے شروع ہوتا ہے۔خط استوٰی جدّی۔سرطان۔افق نصف النھار وغیرہ سب فرضی باتیں ہیں۔مگر اس فرض سے کیسے حقائقِ مادیہ تک پہنچ گئے ہیں۔لیکن اگر ان بدنصیبوں کو کہیں کہ مومن بالغیب ہو کر دعاؤں اور نبیوں کی راہوں پر چل کر دیکھو تو