حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 154

سبکدوش کیا جائے کہ تمہیں کیوں ابن مریم کہا جائے۔اور کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہو سکتا تھا کہ مَیں اپنی طرف سے الہام تراش کر اوّل اپنا نام مریم رکھتا اور پھر آگے چل کر افتراء کے طور یہ الہام بناتا کہ پہلے زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی عیسٰی کی روح پھونکی گئی۔اور پھر آخر کار صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ میں یہ لکھ دیتا کہ اب مَیں مریم میں سے عیسٰی بن گیا۔اے عزیزو! غور کرو اور خدا سے ڈرو۔ہرگز یہ انسان کا فعل نہیں۔یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے فہم اور قیاس سے بالاتر ہیں ۱؎۔اگربراہین حمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا۔مجھے اس منصوبہ کا خیال ہوتا تو مَیں اسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسٰی ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا۔سوچونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی۔اس لئے گو اس نے براہین ِ احمدیہ کے تیسرے حصّہ میں میرا نام مریم رکھا۔پھر جیسا کہ براہینِ احمدیہ سے طاہر ہے دو برس تک صفتِ مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نسوونما پاتا رہا۔پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ برائین احمدیہ کے حصّہ چہارم صفحہ۴۹۶ میں درج ہے۔مریم کی طرح عیسٰی کی رُوح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصّہ چہارم صفحہ۵۵۶ میں درج ہے۔مجھے مریم سے عیسٰی بنایا گیا۔پس اس طور سے مَیں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سّر مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی۔میرے پر نازل ہوئی اور براہین احمدیہ میں درج ہوئی۔مگر مجھے اس کے معنوں اور اس ترتیب پر اطلاع نہ دی گئی۔اسی واسطے مَیں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔محض رسمی تھا۔مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے کود بخود غیب کا دعوٰی نہیں۔جب تک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔سو اس وقت تک حکمتِ الہٰی کا یہی تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہامی اسرار میری سمجھ میں نہ آتے۔مگر جب وقت آ گیا۔تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس سعوٰی مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں یہ وہی دعوٰی ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بتصریہ لکھا گیا ہے۔اس جگہ ایک اور الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں۔لیکن یہ یاد رہے کہ صدہا لوگوں کو مَیں نے سنایا تھا۔اور میری یادداشت کے الہامات میں مو جود ہے۔اور وہ اس زمانہ کا ہے۔جب کہ ۱؎ ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍نومبر ۱۹۱۱ء