حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 147

سُوْرَۃ التَّحْرِیْمِ مَدَنِیَّۃٌ  ۲،۳۔ ۔ ۔اس سورۃ کے شروع میں بھی پچھلی سورۃ کے شروع کی طرح نبی کریں صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کو مخاطب کیا ہے۔مگر حکم عام سب کے لئے ہے۔: تو کیوں حرام کرتا ہے ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے کسی حلال چیز کو چھوڑ دیا تھا۔اس کا پتہ احادیث سے دو جگہ سے ملتا ہے۔ان دو میں سے کسی ایک کو یہاں سمجھ لو۔۱۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے شہد پیا تھا۔تو ایک بیوی نے کہا۔آپؐ کے منہ سے بُو آتی ہے۔آپؐ نے خیال فرمایا کہ اگر شہد کا پینا کسی بیوی کو ناپسند ہے تو ہم نہیں پیتے۔شہد کے پینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔۲۔دوسری بات حدیثوں میں یہ لکھی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم نے اپنی بیبیوں سے ان کے کسی معاملہ پر ناراض ہو کر ان سے علیحدگی اختیار کی تھی اور چند روز تک ایک علیحدہ مکان میں رہے تھے۔اس سے اﷲ تعالیٰ نے نہیں فرمایا۔جس کے سبب سے یہ آیت نازل ہوئی۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ترک میں مشکلات تھے۔اگر وہ قائم رہتا تو مسلمان اسے ایک سنّت بنا لیتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍ نومبر ۱۹۱۱ء)