حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 142

  ۔: گھر دو ان کو رہنے کو جہاں سے آپ رہو۔اپنے مقدور سے اور ایذا نہ چاہو اُن کی یا تنگ پکرو ان کو۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۵۰) ۹۔ ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔پہلی بستیوں کو دیکھو جنہوں نے خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی تھی۔ان پر کیسا عذاب آیا تھا۔کُتبُ الہٰیہ کو پڑھنے اور پہلی قوموں کے حالات کے مطالعہ سے انسان اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ کفر و شرک اور انبیاء علیہم السلام کو نہ ماننا ضرور ایک ایسی چیز ہے جس کا نتیجہ نہایت ہی خطرناک ہوتا ہے لیکن شوخی اور بے باکی اور شرارت بہت ہی بُری شے ہے اور اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔اﷲ تعالیٰ کو شوخ آدمی کبھی پسند نہیں۔اور ہر ایک شہر میں کوئی نہ کوئی ایسا نظارہ ضرور ہوتا ہے۔اَور نہیں تو کسی بڑے امیر کبیر کے مکانات کے کھنڈرات ہی ہوتے ہیں۔لاہور میں شاہی قلعہ دیکھنے والے کو وعظ کر رہا ہے ہر ایک بستی اور گاؤں کے نزدیک کوئی نہ کوئی کھیڑا ضرور ہوتا ہے۔دہلی کے حالات پر غور کرو۔تغلق آباد کیسے آباد کیا گیا تھا۔اس کی جھتوں پر لکڑی نہ ڈالی گئی تھی مگر اب کیسا بے نشان پڑا ہے۔یہاں بھی قریب ہی ایک تغل والا گاؤں مونود ہے جہاں کہ تغل لوگ رہتے تھے۔لکھنئو کے خرابوں اور ویرانوں پر غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو۔ایک صوفی کا قول ہے کہ انسان کی کیا ہستی ہے۔بقطرۂ آبے موجود و بہ خروج بادے معدوم۔پھر حیرت و تعجّت کی بات ہے کہ انسان کِس ہستی پر غرور کرتا ہے۔موت کے سامنے کوئی طاقت نہیں چلتی۔دیکھو سکندر جب تمام فتوحات کر کے بابل میں پہنچا تو موت آ گئی اور کچھ پیش نہ گئی۔بغداد میں اس قدر مخلوق تھی کہ شہر