حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 140
۔ ۔پھر جب پہنچیں اپنے وعدے کو تو رکھ لو ان کو دستور سے یا چھوڑ دو ان کو دستور سے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۵۰) : جب عدّت گزرنے کو ہو۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۴) تقوٰی عظیم الشان نعمت اور فضل ہے جسے ملے۔انسان اپنی ضروریاتِ زندگی میں کیسا مضطرب اور بے قرار رہتا ہے۔خصوصًا رزق کے معاملہ میں۔لیکن متقی ایسی جگہ سے رزق پاتا ہے کہ کسی کو تو کیا معلوم ہوتا ہے۔خود اس کے بھی وہم گمان میں نہیں ہوتا۔ ۔پھر انسان بسا اوقات بہت قسم کی تنگیوں میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اﷲ تعالیٰ متّقی کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے۔جیسے فرمایا ۔انسان کی سعادت اور نجات کا انحصار علومب الہٰیہ پر ہے۔کیونکہ جب تک کتاب اﷲ کا علم ہی نہ ہو۔وہ نیکی اور بدی اور احکامِ ربّ العالمین سے آگاہی اور اطلاع کیونکر پا سکتا ہے… انسان اپنے دشمنوں سے کس قدر حیران ہوتا ہے۔اور ان سے گھبراتا ہے۔لیکن متقی کو کیا خوف؟ اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں۔( الحکم ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴۔۱۵) انسان کو بہت ضرورت ہے اس بات کی کہ کھائے۔پئے۔پہنے۔اﷲ تعالیٰ متّقی کے لئے فرماتا ہے۔انسان جب متّقی بن جائے تو اﷲ تعالیٰ اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔پس اگر کوئی رزق کا طالب ہے تو اس پر واضح ہو کہ رزق کے حصول کا ذریعہ بھی تقوٰی ہے۔۲۔انسان جب مصیبت میں حوادثِ زمانہگ سے پھنس جاتا ہے اور اس کی بے علمی اسے آگاہ نہیں ہونے دیتی کہ کس سبب سے تمسّک کر کے نجات حاصل کرے تو وہ خبیر جو ذرّہ ذرّہ کا آگاہ ہے۔فرماتا ہے۔متّقی