حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 135

سُوْرَۃُ الْمُنٰفِقُوْنَ مَدَنِیَّۃٌ  ۲۔ ۔بہت سے آدمی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم اﷲ کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں کیکن اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ہم جانتے ہیں کہ اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم تُو ہمارا رسول ہے۔لیکن ہم قسم کھاتے ہیں کہ یہ لوگ جو اس قسم کے دعوے کرتے ہیں تو یہ صریح جھوٹے ہیں اور منافق ہیں۔کیونکہ ان کا عمل در آمدان کے دِلی ایمان کے خلاف ہے۔اور جو باتیں یہ زبان سے کہتے ہیں۔اُن کے دل ان باتوں کو نہیں مانتے۔(الحکم ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱) ۹۔ ۔میں نے بارہا سنایا ہے کہ جب مامور من اﷲ آتا ہے تو لوگوم کو اس کی مخالفت کا ایک جوش مارتا اور یہ اس لئے ہوتا ہے۔کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی کے اعزاز کے لئے تل جائے۔اس کو کوئی ذلیل نہیں کر سکتا۔مدینہ طیّبہ میں ایک رأس المنافقین کا ارادہ ہوا۔لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلٰی الْمَدِیْنَۃِ لَیَخْرِجَنَّ الاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّاگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ایک ذلیل گروہ کو معزز گروہ نکال دیگا۔جنابِ الہٰی نے فرمایا وَلِلّٰہِ الْعِذَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ۔معزّز تو اﷲ ہے اور اُس کا رسول اور اس کی جماعت۔منافقوں