حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 134 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 134

تم سمجھتے ہو ! پس مَیں بھی اُن احمقوں سے یہی کہوں گا جو اسی قسم کی شکایتیں کرتے ہیں کہ اگر تم ……… کے معلّم کے لئے آئے تھے تو وہ اپنے خُلقِ عظیم کے ساتھ ویسا ہی موجود ہے! اور اگر ہمارے لئے آئے ہو تو ہم ایسے ہی ہیں! کیا کھانا، کپڑا، جارپائی گھر میں نہیں ملتی تھی جو اس قدر تکلیف اٹھا کر اسی روٹی کے واسطے یہاں آئے؟ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جو لوگ آتے تھے۔ان کے لئے جانتے ہو کوئی مہمان خانہ تجویز ہوا تھایا کوئی لنگر خانہ جاری تھا؟ کوئی نہیں! پھر بھی لوگ آتے تھے اور کوئی شکایت نہ کرتے تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کے لئے آتے تھے اور وہی ان کی غرض ہوتی تھی! غرض یہاں آؤ! نہ اس لئے کہ روٹی یا بستر ملے! بلکہ اس لئے کہ تمہاری بیماریوں کا علاج ہو۔تم خدا کے مسیح اور مہدی سے فیض حاصل کرو!! ہماری بابت کچھ بھی خیال نہ کرو۔ہم کیا اور ہماری ہستی کیا؟ ہم اگر بڑے تھے تو گھر رہتے ! پاکباز تھے تو پھر امام کی ہی کیا ضرورت تھی! اگر کتابوں سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا تھا تو پھر ہمیں کیا حاجت تھی! ہمارے پاس بہت سی کتابیں تھیں! مگر نہیں۔ان باتوں سے کچھ نہیں بنتا! دیکھو ایک دردِ سرکا بیمار ایک کھانسی والے بیمار کے پاس ہو اور وہ ساری رات کھانستا رہے اور اس کو تکلیف ہو اور اس کی شکایت کرے تو یہ شکایت بے جا ہو گی۔وہ خود مریض ہے۔اسی طرح پر ہم جس قدر یہاں ہیں۔اپنے اپنے امراض میں مبتلا ہیں اگر ہم تندرست ہو کر کسی مریض کو دُکھ دیں تو البتہ ہم جواب دہ ٹھہر سکتے تھے لیکن جبکہ خود مبتلائے مرض ہیں اور یہاں علاج ہی کے لئے بیٹھے ہیں تو پھر ہماری کسی حرکت سے ناراص ہونا عقلمندی نہیں ہے! پس ہمارے سبب سے ابتلاء میں مت پڑو! جو لوگ ابتلاؤں سے گھبراتے ہیں۔مَیں سچّے دل سے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے نہ آیا کریں! اور اگر ہماری کوئی تقریر ان کو پسند نہ آوے، تو وہ یہ سمجھیں کہ ہم مامور نہیں! صادق مامور ایک ہی ہے۔جو مسیح اور مہدی ہو کر آیا ہے!! پس خدا سے مدد مانگو! ذکر اﷲ کی طرف آؤ! جو فحشاء اور منکر سے بجانے والا ہے۔اسی کو اسوہ بناؤ۔اور اسی کے نمونہ پر چلو۔ایک ہی مقتداء اور مطاع اور امام ہے! اﷲ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اسی سے پیوند کریں! آمین (الحکم ۱۰؍ مارج ۱۹۰۳ء صفحہ۳۰۲) خ خ خ