حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 133

غرض یاد رکھو۔کہ اب زمانہ بہت نازک آ گیا ہے۔ایک راست باز دنیا میں آیا ہے۔جس کے لئے آسمان نے گواہی دی۔اس وقت کہ جب خدا ایک بچھڑا سمجھا گیا تھا۔خداوند نے اپنے کلام سے بتایا کہ وہ زندہ اور متکلّم خدا ہے اور اُس نے اپنے برگزیدہ بندہ کو بھیج کر حجّت پوری کی مگر پھر بھی دیکھا جاتا ہے۔کہ اس کی مخالفت کی جاتی اور اس کے خلاف منصوبہ بازیاں ہوتی ہیں۔مگر اس کی کچھ پرواہ نہیں۔لوگ آخر خائب و خاسر ہنوے والے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں۔مخالف منصوبے بناتا ہے۔کوشش کرتا ہے۔سفر کر کے، خرچ کر کے فتوٰی تیار کرتا ہے۔کہ یہ کافر اور زور لگا کر کہتا ہے کہ میں ان کو گراؤں گا مگر اس کے سارے اخراجات،ساری محنتیں اور کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔خود گرتا ہے اور جس کو گرانے کا ارادہ کرتا تھا وہ بلند کیا جاتا ہے۔جس قدر کوشش اس کے معدوم کرنے کی کی جاتی ہے اسی قدر وہ انور بھی ترقی پاتا اور بڑھتا ہے! یہ خدا تعالیٰ کے ارادے ہیں۔ان کو کوئی بدل نہیں سکتا! اس کے مخالف (الانفال:۳۷)اس مصداق ہو جاتے ہیں! پس یاد رکھو۔اس وقت ضرورت ہے۔ایسے امام کی جو حق کا سنانے والا، سمجھا نیوالا اور پھر تزکیہ کرنے والا ہو۔بڑے ہی بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس نور سے حصّ نہیں پاتے۔اﷲ تعالیٰ مجھ کو اور تم کو روفیق دے کہ ہم جنہوں نے اس نور سے حصّہ لینے کی سعی کی اور اس چشمہ کے پاس پہنچے ہیں۔پوری روشنی حاصل کر سکیں۔اور سیراب ہوں اور یہ ساری باتیں حاصل ہوتی ہیں جب تو ساری تجارتوں اور بیع و شراء کو چھوڑ کر اس کے پاس پہنچ جانا چاہیئے۔اور (التوبہ: ۱۱۹) پر عمل کرنا ضروری سمجھا جاوے! بعض لوگ جو یہاں آتے ہیں اور رہتے ہیں ان کو ایسی مشکلات پیش آتی ہیں جو ان کی اپنی پیدا کردہ مشکلات سمجھنی چاہئیں۔مثلاً کوئی کہتا ہے کہ مجھے چارپائی نہیں ملی یا روٹی کے ساتھ دال ملی۔میں ایسی باتوں کو جب سُنتا ہوں تو اگرچہ مجھے ان لوگوں پر افسوس ہوتا ہے۔جو ان خدمات کے لئے مقرّر ہیں۔مگر ان سے زیادہ افسوس ان پر ہوتا ہے جو ایسی شکایتیں کرتے ہیں! میں ان سے پوچھوں گا کہ کیا وہ اس قدر تکالیف سفر کی برداشت کر کے روٹی یا چارپائی کے لئے آتے ہیں؟ یا ان کا مقصود کچھ اَور ہوتا ہے؟ میرے ایک پیر شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ مدینہ میں رہا کرتے تھے۔ایک شخص ہجرت کر کے مدینہ میں آیا۔پھر اُس نے اُن سے کہا کہ مَیں یہاں نہیں رہتا۔کیونکہ لوگ شرارتی ہیں۔شاہ صاحب نے اس کو کہا کہ تم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے آئے تھے یا عربوں کے واسطے۔اگر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے آئے تھے۔تو وہ تو ویسے ہی ہیں جیسا کہ تم نے یقین کیا تھا اور اگر عربوں کے لئے آئے تھے تو وہ بیشک ایسے ہی ہیں جیسا کہ