حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 132 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 132

تحدیث بالنعمۃ کے طور پر کہتا ہوں کہ مَیں اگر شہر میں رہوں تو بہت روپیہ کما سکوں لیکن میں کیوں ان ساری آمدنیوں پر قادیان کے رہنے کو ترجیح دیتا ہوں؟ اس کا مختصر جواب میں یہی دوں گا کہ مَیں نے یہاں وہ دولت پائی ہے جو غیر فانی ہے۔جس کو چور اور قزاق نہیں لے جا سکتا! مجھے وہ ملا ہے۔جو تیرہ سو برس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا! پھر ایسی بے بہا دولت کو چھوڑ کر میں چند روزہ دنیا کے لئے مارا مارا پھروں؟ مَیں سچ کہتا ہوں کہ اگر اب کوئی مجھے ایک لاکھ کیا ایک کروڑ روپیہ یومیہ بھی دے اور قادیان سے باہر رکھنا چاہے۔میں نہیں رہ سکتا! ہاں امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں ! پھر خواہ مجھے ایک کوڑی بھی نہ ملے! پس میری دولت میرا مال ، میری ضرورتیں اسی امام کے اتباع تک ہیں! اور دوسری ساری ضرورتوں کو اس ایک وجود پر قربان کرتا ہوں! میرے دل میں بارہا یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ صحابہؓ کو جو مہاجر تھے کیوں خلافت ملی۔اور مدینہ والے صحابہ ؓ کو جو انصار تھے اس سے حصّہ نہیں ملا۔بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ انصار کی جماعت نے ایسے وقت آنحضرت کی جماعت نے ایسے وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدد کی جب آپؐ مکّہ سے تکالیف پبرداشت کرتے ہوئے پہنچے۔مگر اس میں بھید یہی ہے کہ انصار نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے چھوڑا نہیں۔اسژ کی نصرت کے لئے خدا نے ان کو بہت کچھ دیا۔مگر مہاجر جنہوں نے اﷲ کے لئے ہاں محض اﷲ ہی کے لئے اپنے گھر بار بیوی بچے اور رشتہ داروں تک چھوڑ دیئے تھے۔اور اپنے منافع اور تجارتوں پر پانی پھیر دیا تھا۔وہ خلافت کی مسند پر بیٹھے۔میں سقیفہ کی بحث پڑھتا تھا اور مِنْکُمْ اَمِیْْرٌ وَ مِنَّا اَمِیْرٌپر مَیں نے غور کی ہے۔مجھے خدا نے اس مسئلہ خلافت میں یہی سمجھایا ہے کہ مہاجرین نے چونکہ اپنے گھر بار تعلقات چھوڑے تھے ان کو ہی اس مسند پر اوّل جگہ ملنی ضرور تھی۔اﷲ تعالیٰ کے لئے جب کوئی کام کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا پس ایسے عذر بے فائدہ اور بیہودہ ہیں۔اس وقت دنیا خطرناک ابتلاء میں پھنسی ہوئی ہے۔پہلی بلاء جہالت کی ہے۔تدبّر سے کتاب اﷲ کو نہیں پڑھتے اور نہیں سوچتے۔جب تدبّر ہی نہ ہو۔تلاوت ہی نہ ہو تو اس پر عمل کی تحریک کیسے پیدا ہو۔کتاب اﷲ کو چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی جگہ بہت بڑا وقت قصّوں کہانیوں اور لغویات میں بسر کیا جاتا ہے۔دوسرا نقص یہ ہے کہ فسق و فجور بڑھ گیا ہوا ہے۔بد معاملگی ہے۔جہالت ہے۔گندگی اور ناپاکی کو مقدّم کر لیا گیا ہے۔پھر اس کے ساتھ کبر ہے۔وہ کبر کہ یہ برداشت نہیں رہی کہ کوئی نصیحت کرے تو صبر کے ساتھ اس نصیحت کو سُن لیں! اور اس کے ساتھ اور مصیبت یہ ہے کہ اپنے دُکھ سے ناآشنا ہیں۔مرض کے حالات سے ناواقف ہیں۔اسے محسوس نہیں کرتے! طبیب کی تشخیص پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور اسے ہی مجنون ٹھہراتے ہیں!