حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 131
اﷲ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔یہ حالت انسان کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ خدا تعالیٰ پر سچّا اور کامل یقین نہیں رکھتا۔اور اس کو رازق نہیں سمجھتا۔یوں ماننے سے کیا ہوتا ہے۔جب کامل ایمان ہوتا ہے تو اس پر اﷲ تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔بعض لڑکوں سے مَیں نے پوچھا ہے کہ تم جو گھر جاتے ہو۔کیوں؟ کیا لَھْو کے واسطے۔اگر یہ غرض ہے تو پھر یہ خدا کے ارشاد کے نیچے ہے۔لَھْوًااور تِجَارَۃًکو گویا خدا تعالیٰ پر مقدّم کرتا ہے۔اس سے بچنا چاہیئے۔اﷲ کو خَیّر الرّازقین یقین کرو۔اور مت خیال کرو۔کہ صادق کی صحبت میں رہنے سے کوئی نقصان ہو گا کبسی ایسی جرأت کرنے کی کوشس نہ کرو کہ اپنی ذاتی اغراص کو مقدّم کر لو۔خدا کے لئے جو کچھ انسان چھوڑتا ہے اُس سے کہیں بڑھ کر پا لیتا ہے۔تم جانتے ہو۔ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے کیا چھوڑا تھا اور پھر کیا پایا۔صحابہؓ نے کیا چھوڑا ہو گا۔اس کے بدلہ میں کتنے گُنے زیادہ خدا نے ان کو دیا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک مکیا ہے جو نہیں ہے؟ لِلّٰہِ خَزَائِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ! تجارتوں میں خسارہ کا ہو جانا یقینی اور کاروبار میں تباہیوں کا واقع ہو جانا قرینِ قیاس ہے۔لیکن خدا تعالیف کے لئے کسی چیز کو چھوڑ کر کبھی بھی انسان خسارہ نہیں اُٹھا سکتا ۱؎ غرض اﷲ تعالیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ ساری تجارتوں سے بہتر ہے۔وہ خیرالرّازقین ہے۔مَیں نے بہت سے ایسے بے باک دیکھے ہیں جو کہا کرتے ہیں ؎ اے خیانت بر تو رحمت از تو گنجے یافتم اے دیانت بر تو لعنت از تو رنجے یافتم ایسے شوخ دیدہ خود ملعون ہیں جو دیانت پر لعنت بھیجتے ہیں۔پس خدا کے لئے ان ذریعوں اور راستوں کو چھوڑو جو بطاہر کیسے ہی آرام دہ نظر آتے ہوں لیکن ان کے اندر خدا کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔مَیں نے بسا اوقات نصیحت کی ہے لِلّٰہِ خَزَائِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ پر عمل کرنے کے واسطے صروری ہے۔یہاں آ کر رہو۔بعض نے جواب دیا ہے کہ تجارت یا ملازمت کے کاموں سے فرصت نہیں ہوتی لیکن مَیں ان کو آج یہ سناتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ تمام تجارتوں کو چھوڑ کر ذکر اﷲ کی طرف آ جاؤ! وہ اس بات کا کیا جواب دےسکتے ہیں؟ کیا ہم کُنبہ قبیلہ والے نہیں؟ کیا ہماری ضروریات اور ہمارے اخراجات نہیں ہیں؟ کیا ہم کو دنیوی عزّت یا وجاہت بُری لگتی ہے؟ پھر وہ کیا چیز ہے۔جو ہم کو کھینچ کر یہاں لے آئی؟ مَیں شیخی کے لئے نہیں کہتا بلکہ الحکم ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۷