حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 130
یہ سب مضمون جب میرے دل میں آیا تو برے زور سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ پڑھا۔قرآن میں کہیں نہیں آیا کہ مومن کو خوف و حزن ہوتا ہے۔وہ تو لَایَخَافُ وَ لَا یَحْزَنُہوتا ہے۔زبان کا سب سے بھاری فرض ہے ۱۔کلمۂ توحید پڑھنا۔نماز میں ……… بھی فرص ہے ۲۔تو گویا اتنا قرآن پڑھنا بھی فرض ہوا ۳۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی زبان کا ایک رُکن ہے۔اس کے محرمات ہیں۔غیبت۔تحقیر۔جھوٹ۔افتراء۔اس زبان کے ذریعہ تمام تلاوتب قرآن و تلاوتِ احادیث کرے۔اور عام طور پر جو معرفت کے خزانے اﷲ و رسول کی کتابوں میں ہیں۔پوچھ کر یا بتا کر ان کی تہہ تک پہنچے۔معمولی باتیں کرنا مباح ہیں۔پسندیدہ باتیں اپنی عام باتوں میں استحباب کا رنگ رکھتی ہیں۔(الملک:۱۱) اگر ہم حق کے سنوا ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے۔اس سے ثابت ہوا کہ حق کا سننا فرص ہے اور غیبت کا سُننا حرام ہے۔سماع کے متعلق صوفیاء میں بحث ہے۔میرے نزدیک سماع قرآن و حدیث ضروری ہے۔مگر ایک شیطانی سماح ہے کہ رانگنی کی باریکیوں پر اطلاع ہو۔یہ ناجائز ہے۔ہمیں حکجم ہے کہ جس پانی کی بُو خراب ہو۔اس سے وضو نہ کری۔اس واسطے پانی کا سونگھنا اس وقت فرص ہو گیا۔خصوصاً جب نجاست کا احتمال ہو۔عید کے دن عطر لگانا مستحبّات میں داخل ہے۔ہاں اجنبی عورت کے کپڑوں اور بالوں کی خوشبو سونگھنا حرام ہے۔اسی طرح آنکھ اور دوسرے اعضاء کے فرائض ہیں۔ٔ ……… زبان کے فرائض میں سے شکر بھی ہے۔ناشکری کا مرص مسلمانوں میں بہت بڑھ گیا ہے۔کسی کو نعمت دیتا ہے تو وہ حقارت کرتا ہے۔اس سے نعمت بڑھتی نہیں۔اگر انسان شکر کرے تو نعمت بڑھتی ہے۔(بدر ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ۳۔۴) ۱۲۔ ۔اور جب تجارت کے سامان مل جاتے ہیں یا کھیل تماشہ کا وقت پاتے ہیں۔وہ تجھے چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ان کو کہہ دو کہ اﷲ تعالیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ ساری تجارتوں اور کھیل تماشوں سے بہتر ہے۔اور