حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 129 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 129

(البقرۃ:۱۴۷) (النمل:۱۵) سے پتہ لگتا ہے کہ دل یقین کر چکے ہیں۔پس اس یقین کے ساتھ عملی رنگ بھی ضروری ہیں۔۲۔اس کے بعد فرض ہے حضرت محمد رسول اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو اﷲ کا رسول یقین کرنا۔جب اﷲ معبود ہوا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم رسول۔تو اﷲ کے بالمقابل اب اور کسی کا حکم نہیں اور رسول کی اطاعت کے بالمقابل کوئی اطاعت نہیں۔یہ واجبات سے ہے۔دل کے مُحرّمات میں سے ہے۔۱۔اﷲ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ۲۔کبِر ونخوَت ۳۔بمغض و حسد ۴۔ریاء و سمعت ۵۔نفاق کرنا۔شرک کی نسبت تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ معاف نہ کروں گا۔اور کبِر وہ فعل ہے جس کا نتیجہ شیطان اب تک لعنت اٹھا رہا ہے۔اور ریاء کہتے ہیں اس عمل کو جو دکھاوے کے لئے کیا جاوے اور نفاق یہ ہے کہ دل سے نہ مانے اور اوپر سے اقرار کرے۔اس کے کچھ اَور شعبے بھی ہیں۔جب بات کرے جھوٹ بولے ۲۔امانت میں خیانت کرے ۳۔معاہدہ میں عدّاری کرے ۴۔سخت فحش گالیاں دیں۔دل کے فرائض سے نیچے یہ بات ہے کہ دل کو اﷲ کی یاد سے طمانیت بخشے۔آدمی پر مصائب کا پہاڑ گر پڑتا ہے۔کسی کی صحت خطرہ میں ہے۔کسی کی عزّت کسی کی مالی حالت۔کسی کو بیوی کے تعلقات میں مشکلات ہیں۔کسی کو اولاد کی تعلیم میں۔ان تمام مشکلات کے وقت خدا کی فرماں برداری کو نہ بھُولے۔ایک شخص دہلی میں ہیں جو ہمارے خیالات کے سخت مخالف ہیں۔انہوں نے کتاب الحقوق و الفرائض لکھی ہے۔مَیں نے اسے بہت پسند کیا ہے۔حق بات کسی کے ممنہ سے نکلے۔مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔دوست کے منہ سے نکلے تو پھر اور کیا چاہیئے؟ حقوق و فرائض کا ہر وقت نگاہ رکھنا مومن کے لئے مستحب کام ہے! مصائب میں اﷲ پر ایسا بھروسہ ہو کہ ان مصائب کی کچھ حقیقت نہ سمجھے اس کی تہہ کے اندر جو حکمتیں ، رحمتیں، فصل ہیں ان تک اِنَّا لِلّٰہِکے ذریعے پہنچے۔ایک دفعہ مَیں جوانی میں اَلّحَمْد پڑھنے لگا۔ان دنوں مجھ پر سخت ابتلاء تھا اس لئے مجھے جبراً پڑھنے میں تامل ہوا۔کیونکہ جب دل پورے طور پر اس کلمہ کے زبان سے نکالنے پر راضی نہیں تھا۔تو یہ ایک قسم کا نفاق تھا۔اﷲ تعالیٰ نے میری دستگیری کی اور معاً مجھے خیال آیا کہ جو اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اور اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ پڑھتا ہے۔ہم اس مصیبت کو راحت سے بدل دیتے ہیں۔انسان پر جو مصیبت آتی ہے۔کبھی گناہوں کا کفّارہ ہو جاتی ہے اس لئے انسان شُکر کرے کہ قیامت کو مؤاخذہ نہ ہو گا۔دومؔ ممکن تھا اس سے بڑھ کر مصیبت میں گرفتار ہوتا۔سومؔ مالی نقصان کی بجائے ممکن تھا جانی نقصان ہوتا جو ناقابلب برداشت ہے۔چہارم۔یہ بھی شُکر کا مقام ہے کہ خود زندہ رہے کیونکہ خود زندہ نہیں تو پھر تمام مال و اسباب وغیرہ کی فکر لغو ہے۔